امن عالم
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک چیز جس کو پاکستان بالفعل کھو چکا ہے، اس کے کھوئے جانے کا اعتراف کر لیا جائے۔ پاکستان کو اس کی یہ نقد قیمت ملے گی کہ اس کی تعمیر و ترقی کے تمام دروازے اچانک کھل جائیں گے جواب تک گویا اس کے اوپر بند پڑے ہوئے تھے۔ اس کے برعکس اگر پاکستان کی حکومت کشمیر کے بارے میں ہندستانی موقف کو تسلیم نہ کرے اور ہندستان سے اپنی بلا اعلان لڑائی جاری رکھے تو اس کا تباہ کن نقصان یہ ہوگا کہ جس چیز سے پاکستان محروم ہو چکا ہے، اس سے اس کی محرومی تو بدستور قائم رہے گی۔ مزید یہ نقصان ہوگا کہ پاکستان کی اقتصادی تباہی میں اور زیادہ اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی ناقابل برداشت حد کو پہنچ چکی ہے۔ خوش گوار آغاز ، ناخوش گوار انجام پاکستان کا اسلامک گروپ اور انڈیا کا فنڈمنٹلسٹ گروپ دونوں کے عقیدے بظاہر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ مگر عملی طور پر دونوں کا کیس تقریباً یکساں ہے۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں کے واحد نجات دہندہ ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں گروہوں نے اپنے اپنے ملکوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان شاید کسی اور گروہ نے نہیں پہنچایا۔ اس صورت حال کا مشترک سبب یہ ہے کہ دونوں اگر چہ اپنے اپنے اعتبار سے وطن کے خیر خواہ ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ دونوں ہی یکساں طور پر انتہا پسند (extremists) ہیں۔ اور انتہا پسندی کے ساتھ ایک گھر کو بھی کامیابی کے ساتھ نہیں چلا جا سکتا۔ پھر پورے ملک کو کس طرح انتہا پسندی کے ذریعہ کا کامیابی کے ساتھ چلا جا سکتا ہے۔ اب پاکستان کے اسلامسٹ گروپ کو لیجیے۔ یہ لوگ پچھلے تقریباً 55 سال سے پاکستان میں سرگرم ہیں۔ اپنے کئی مطالبات کو منوانے میں بھی بظاہر وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر ان کی یہ کامیابی وسیع تر معنوں میں ان کے ملک کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب نہ بن سکی۔ پاکستان کی سیاست سے اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہاں ہم صرف کشمیر کے مسئلہ کو لیں گے ۔ اس معاملہ میں پاکستان کے اسلامسٹ گروپ نے اپنے مخصوص مزاج کے تحت یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader