خوش گوار آغاز ، ناخوش گوار انجام
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا کہ انہوں نے اپنی کشمیری تحریک کو قومی تحریک نہ بتاتے ہوئے اس کو جہاد کا عنوان دے دیا۔ قومی تحریک میں ہمیشہ فیصلہ کن چیز عملی حقائق ہوتے ہیں۔ اس بنا پر قومی تحریک میں ہمیشہ لچک اور ایڈ جسٹ منٹ کی گنجائش رہتی ہے۔ مگر جہاد ایک مذہبی عقیدہ کی بات ہے۔ جب کسی معاملہ کو جہاد کا معاملہ قرار دے دیا جائے تو اس سے وابستہ لوگوں میں لچک اور ایڈجسمنٹ کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جہاد کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ بتاتا ہے کہ اگر تم اس راہ میں کچھ حاصل نہ کر سکوتب بھی اس میں جان دینا ہی تمہاری کامیابی ہے۔ کیونکہ جہاد کے راستہ میں مرکز تم سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ گے ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان کا سیکولر طبقہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کرنے پر ذہنی طور پر راضی ہے۔ مگر وہاں کا اسلامسٹ گروپ اس معاملہ میں ان کے خلاف عقب لشکر (rearguard) کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس نے پر جوش تقریریں کر کے اس معاملہ کو اتنا زیادہ جذباتی بنا دیا ہے کہ اب پاکستان کے بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم سرینگر تک پہنچیں یا نہ پہنچیں مگر اس راہ میں لڑ کر ہم جنت تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کا اسلامسٹ گروپ ایڈ جسٹمنٹ (adjustment) کی پالیسی اختیار کرنے میں ایک مستقل رکاوٹ بن گیا ہے، جب کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایڈ جسٹمنٹ کی پالیسی ہی کسی قوم کے لیے کامیابی کا واحد ذریعہ ہے۔ اب انڈیا کو لیجیے۔ انڈیا کا فنڈمنٹلسٹ طبقہ بھی اپنے حالات کے اعتبار سے وہی منفی کردار ادا کر رہا ہے جو پاکستان کا اسلامسٹ طبقہ اپنے حالات کے لحاظ سے ادا کر رہا ہے۔ مذہبی فنڈمنٹلزم عین اپنی فطرت کی بنا پر اپنے آپ کو برحق سمجھنے (self righteousness) کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ اس مزاج کا مزید نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر انتہا پسندی اور کٹر پن کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جانتے ہیں مگر وہ دوسروں کو نہیں جانتے۔ وہ اپنے آپ کو ہر حال میں درست اور دوسروں کو ہر حال میں نادرست سمجھتے ہیں۔ وہ صرف اپنے آپ کو رعایت کا مستحق سمجھتے ہیں ، دوسروں کی رعایت کرنا ان کی فہرست اخلاق میں شامل نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader