خوش گوار آغاز ، ناخوش گوار انجام
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادی کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں اس فنڈ منٹلسٹ کردار کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں ہم کشمیر کے تعلق سے اس معاملہ کی ایک تازہ مثال نقل کریں گے۔ حکومت ہند کی دعوت پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے انڈیا کا دورہ کیا۔ وہ 14 جولائی 2001 کی صبح کو یہاں آئے اور 16 جولائی 2001 کی رات کو واپس گئے۔ اس دوران دہلی اور آگرہ میں ان کی ملاقاتیں انڈیا کے لیڈروں سے ہوئیں۔ ابتداء میں بظاہر ملاقات کا یہ پروگرام بہت امید افزا تھا۔ مگر بعد کو ایسی تلخی پیدا ہوئی کہ کوئی مشترک اعلان جاری کیے بغیر یہ چوٹی کانفرنس ختم ہوگئی۔ دورہ ناکام ہو کر رہ گیا۔ اس ناکامی کا سبب کیا تھا۔ میرے نزدیک اس کا سبب ہمارے یہاں کے کچھ فنڈ منٹلسٹ لیڈروں کا بے لچک رویہ ہے۔ وہ اپنے مذکورہ ذہن کی بنا پر معتدل انداز میں پاکستانی صدر سے معاملہ نہ کر سکے اور چوٹی کانفرنس ناکام ہو کر رہ گئی۔ میں ذاتی طور پر پچھلے تقریباً چالیس سال سے یہ رائے رکھتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلہ کا واحد ممکن حل یہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی لائن یا لائن آف ایکیپول کنٹرول کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان مستقل سرحد کے طور پر مان لیا جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے یہ ایک نہایت کڑوا گھونٹ ہے۔ اس لیے اس تجویز کو واقع بنانے کے لیے ہمیں حد درجہ حکمت اور دانش مندی سے کام لینا ہوگا۔ اس کے بغیر اس معاملہ میں کامیابی ممکن نہیں۔ اپنے حریف کو بے عزت کر کے آپ اسے جیت نہیں سکتے، البتہ رعایت اور محبت کا معاملہ کر کے یقینی طور پر آپ اس کو جیت سکتے ہیں۔ میں نے صدر پرویز مشرف کے سفر سے پہلے انہیں ایک خط (9 جولائی 2001) بھیجا تھا۔ یہ خط زیر نظر مجموعہ میں شامل ہے۔ صدر پرویز مشرف جب ہندوستان آئے تو انہوں نے کئی ایسے اشارے دئے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مفاہمت اور مصالحت پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کھلے ذہن (open mind) کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ دہلی میں اپنے آبائی مکان کی خصوصی زیارت کر کے انہوں نے یہ تاثر دیا کہ میں اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک ہندوستانی ہوں، اس لیے فطری طور پر میرے دل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader