امن عالم
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہندوستان کے لیے ایک نرم گوشہ (soft corner) موجود ہے۔ راشٹرپتی بھون نئی دہلی کی پارٹی میں انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی نزاع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں: There is no military solution to the Kashmir dispute. انہوں نے آگرہ کی پریس کانفرنس میں اعتراف حقیقت (acceptance of reality) کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں زینہ بہ زینہ (step by step) آگے بڑھنا ہوگا، وغیرہ۔ پاکستانی صدر کے اس قسم کے اشارے واضح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ وہ مصالحانہ انداز اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کشمیر کے نزاعی مسئلہ کو ختم کرنے کا ارادہ لے کر آئے ہیں۔ مگر ہماری لیڈر شپ اپنے مذکورہ فنڈمنٹلسٹ مزاج کی بنا پر پاکستانی صدر کے ان اشاروں (gestures) کو کیش (cash) نہ کرسکی۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ مثال کے طور پر ہمارے فنڈمنٹلسٹ لیڈروں کو جاننا چاہیے تھا کہ جنرل پرویز مشرف جو بھی معاہدہ کریں، اس کے بعد انہیں اپنے ملک پاکستان واپس جانا ہے۔ اس لیے ہر بات ایسے حکیمانہ انداز سے کہی جائے کہ پرویز مشرف جب واپس ہو کر اسلام آباد پہنچیں تو وہاں ان کا استقبال کالے جھنڈوں سے نہ کیا جائے۔ مگر ہمارے لیڈروں کے بے لچک رویہ اور غیر دانش مندانہ کلام کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصالحت کی گفتگو راہ پر آنے کے بعد اچانک اس انجام سے دوچار ہوئی جس کو ایک ہندوستانی صحافی نے ڈرامائی موڑ (dramatic turn) کے لفظ سے تعبیر کیا تھا۔ خوش گوار آغاز کا یہ ناخوش گوار انجام کیوں ہوا، اس کی کافی تفصیل میڈیا میں آ چکی ہے۔ یہاں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ نزاعی امور کا تصفیہ گہری دانش مندی کے ساتھ فریق ثانی کی مکمل رعایت کا طالب ہوتا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں ہر آدمی کو معلوم ہے کہ مسئلہ کے حل کے لیے ان دونوں پہلوؤں کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ مگر جب معاملہ قومی انٹرسٹ کا ہو تو لوگ اس حقیقت کو اس طرح بھول جاتے ہیں جیسے کہ وہ اس کو جانتے ہی نہ ہوں۔ کرنے کا کام پچھلے دو سو سال کے اعتبار سے کشمیر کی تاریخ کو دیکھا جائے تو وہ تین بڑے دوروں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader