Urdu book · امن عالم

کرنے کا اصل کام

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

گزرتے ہوئے دکھائی دے گی ۔ پہلے دور میں کشمیر کے لوگ صوفیوں سے متاثر ہوئے۔ کشمیر میں صوفیوں کا آنا کشمیریوں کے لیے اس اعتبار سے مفید ثابت ہوا کہ ان کے ذریعے کشمیریوں کو اسلام کا تحفہ ملا۔ کشمیر یوں کی بہت بڑی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی۔ صوفیا نے کشمیریوں کو مذہبی اعتبار سے اسلام تو دیا مگر وہ کشمیریوں کو وسیع تر معنی میں زندگی کا کوئی مشن نہ دے سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیریوں کے لیے اسلام زیادہ ٹر کلچر کے ہم معنی بن کر رہ گیا۔ وسیع تر معنوں میں انھیں وہ شعور اور وہ پروگرام نہیں ملا جو کشمیریوں کی پوری زندگی کو ایک جامع نشانہ دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے بیشتر لوگوں کی زندگی بزرگوں کی قبروں یا درگاہوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ مخصوص قسم کے اور ادو وظائف کو وہ اتنے اہتمام کے ساتھ پڑھتے ہیں جیسے کہ وہی سارا اسلام ہو۔ اس درگاہی اسلام یا کلچرل اسلام کا یہ نقصان ہوا کہ کشمیریوں میں وہ شعور ترقی نہ کر سکا جو وسیع تر معنی میں ان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کرے۔ اسی بے شعوری کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ بار بار ایسی منفی سیاست میں ملوث ہوتے رہے جس کا کوئی حقیقی تعلق اسلام سے نہ تھا۔ حتی کہ دنیوی اعتبار سے بھی اس کا کوئی فائدہ کشمیریوں کو ملنے والا نہ تھا۔ اسلام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو ایک روحانی مرکز دے، وہ آدمی کو خدا کی عبادت کے طریقے بتائے، وہ آدمی کو ایک ربانی کلچر عطا کرے ۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے، کشمیری لوگ اس پہلو سے تو اسلام سے آشنا ہوئے مگر ایک اور پہلو سے وہ بڑی حد تک اسلام کے فوائد سے بے بہرہ رہے۔ یہ دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تعمیر ذہن کہا جا سکتا ہے۔ کشمیریوں کی تعلیم و تربیت اس نہج پر نہ ہوسکی جو ان کے اندر صحیح اسلامی شعور پیدا کرے۔ جو انہیں سوچنے کے وہ طریقے بتائے جس کی روشنی میں وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام کے مطابق فیصلہ لے سکیں۔ یہ کہنا شاید درست ہوگا کہ کشمیریوں کو مذہبی اعتبار سے تو اسلام ملا مگر شعوری انقلاب کے اعتبار سے وہ بڑی حد تک اسلام سے اپنا حصہ نہ پاسکے۔ اس سلسلہ کا پہلا واقعہ ہے کہ جب کہ کچھ لیڈروں کے نعرہ پر کشمیری لوگ سابق ڈوگرہ راج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page