Urdu book · امن عالم

کرنے کا اصل کام

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

کے خلاف متحرک ہوئے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک جذباتی ہنگامہ آرائی تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بظاہر کامیاب ہونے کے باوجود کشمیریوں کے مستقبل کی تعمیر میں اس تحریک کا کوئی حصہ نہیں ۔ ڈوگرہ راج کے خلاف یہ تحریک زیادہ تر کچھ لیڈروں کے سیاسی حوصلہ کا اظہار تھی، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی شعور کا نتیجہ۔ 1947 کے بعد کشمیریوں کے درمیان تحریکوں کا نیا دور شروع ہوا۔ اس دور میں کشمیر کے عوام دو بڑی تحریکوں سے متاثر ہوئے۔ ایک وہ جوسیکولرزم کے نام پر اٹھی اور دوسری وہ جو اسلام کے نام پر اٹھی ۔ یہ دونوں ہی تحریکیں دوبارہ کچھ لیڈروں کے سیاسی عزائم کی پیدا وار تھیں ، وہ حقیقی معنوں میں اسلامی شعور کے تحت پیدا نہیں ہوئیں۔ سیکولر لیڈروں نے 1947 کے بعد آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر کے نام پر اپنی تحریکیں چلائیں۔ ان تحریکوں کا یہ فائدہ تو ہوا کہ کچھ لیڈروں کو شہرت اور مادی فائدے حاصل ہوئے مگر کشمیری عوام کے لیے وہ ایک ایسے نشانہ کی طرف دوڑنے کے ہم معنی تھی جس کی کوئی منزل نہیں۔ جس کا آغاز تو ہے مگر اس کا کوئی اختتام نہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے اسلامی کشمیر اور نظام مصطفی کے نام پر اپنی تحریک چلائی ۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا نام لیتے تھے مگر ان کے پاس خوش فہمیوں اور جذباتیت کے سوا کوئی اور سرمایہ نہ تھا۔ وہ اپنے رومانی جذبات کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور دوسروں کو دوڑار ہے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ اسلام کی منزل کی طرف جارہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کی تحریک اسلام کے لیے تو در کنار، خود دنیا کے اعتبار سے بھی کوئی واقعی فائدہ کشمیریوں کو دینے والی نہ تھی۔ یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے ۔ یہاں جذباتی سیاست کے ذریعہ کوئی مثبت نتیجہ بر آمد کرنا ممکن نہیں۔ ان تحریکوں کا بے نتیجہ ہونے ہی کا یہ انجام ہے کہ کشمیری تحریک 1989 کے بعد تشدد کی راہ پر چل پڑی۔ آخری دور میں تشدد کی جو تباہ کن تحریک کشمیریوں کے درمیان ابھری وہ دراصل کشمیریوں کی مایوسانہ نفسیات کا نتیجہ تھی۔ پہلے وہ اپنے نادان لیڈروں کی پیروی میں بے نتیجہ راہوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page