کرنے کا اصل کام
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف دوڑے اور جب فطرت کے قانون کے تحت ان کی تحریکوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تو مایوسی اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو کر انہوں نے مسلح جدوجہد شروع کر دی۔ اہلِ کشمیر کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کا از سرِ نو اندازہ (reassessment) کریں۔ وہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کر کے اپنے مستقبل کی تعمیر کا نیا منصوبہ بنائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیری لوگ پہلا موقع (first chance) کھو چکے ہیں۔ اب ان کے لیے ممکن صورت صرف یہ ہے کہ وہ دوسرے موقع (second chance) کو شعوری طور پر سمجھیں اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ کشمیریوں کے لیے اپنی زندگی کی تعمیر کا نیا پروگرام تین نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ وہ تین نکات یہ ہیں — تعلیم، اقتصادیات، دعوت۔ کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ سیاست اور ہتھیار سے مکمل طور پر بے تعلق ہو جائیں۔ وہ اپنی پوری نسل کو تعلیم کے راستہ پر لگا دیں۔ جموں وکشمیر کے پورے علاقہ میں بڑے پیمانہ پر اسکول اور مدرسے کھولے جائیں۔ کم از کم 25 سال تک وہ یہ کریں کہ اپنے بچوں کو ہر دوسری سرگرمی سے ہٹا کر صرف تعلیم کے راستہ پر لگا دیں۔ دوسرا میدان اقتصادیات کا ہے۔ جموں وکشمیر کی ریاست میں تجارت اور صنعت کے غیر معمولی مواقع موجود ہیں۔ کشمیری مسلمانوں نے ابھی تک ان مواقع سے بہت کم فائدہ اٹھایا ہے۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ نئے ذہن کے تحت پوری طرح یکسو ہو کر تجارت اور صنعت کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ تیسرا میدان دعوت کا ہے۔ دعوت سے میری مراد اسلام کا پیغام غیرمسلموں تک پہنچانا ہے۔ اس اعتبار سے کشمیریوں کے لیے دو بہت بڑے میدان کھلے ہوئے ہیں۔ ایک وہ غیر مسلم لوگ جو جموں وکشمیر میں بسے ہوئے ہیں اور وہاں کے ریاستی باشندہ ہیں۔ دوسرے وہ غیر مسلم لوگ جو سیاح کے طور پر کشمیر میں آتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader