Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

کشمیر میں اگر امن قائم ہو جائے تو وہاں سیاحت کا بہت بڑا میدان کھل جائے گا۔ یہ سیاحت ایک اعتبار سے انڈسٹری ہے اور دوسرے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ مدعو خود دائی کے پاس آگیا۔ یہ سیاحتی امکان اتنا بڑا ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ اس کو درست طور پر استعمال کریں تو وہی ان کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لیے کافی ہو جائے۔ کشمیر جنت نظیر کشمیر کو سیکڑوں سال سے جنت نظیر کہا جاتا تھا۔ یعنی جنت کا نمونہ۔ ایک فارسی شاعر نے جب کشمیر کو دیکھا تو اس نے کشمیر کے بارے میں یہ شعر کہا کہ اگر جنت زمین پر ہے تو وہ یہی کشمیر ہے: اگر فردوس بر روی زمین است ہمیں است وہمیں است وہمیں است پچھلے زمانوں میں جب کہ کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا تھا، اس وقت کشمیر میں ”کشمیر ی عوام“ کی حکومت نہ تھی۔ پہلے یہاں مغلوں کا راج تھا۔ اس کے بعد یہاں انگریز حکومت کرنے لگے۔ اس کے بعد یہاں ڈوگرہ راجہ کی حکومت قائم ہوئی۔ اس پوری مدت میں کشمیر ایک جنت نظیر خطہ بنا رہا۔ ساری دنیا کے لوگ اس کو دیکھنے کے لیے آتے رہے۔ برصغیر ہند میں تاج محل اگر عمارتى حسن کا اعلیٰ نمونہ تھا تو کشمیر قدرتی حسن کا اعلیٰ نمونہ۔ اس تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر کو کشمیر بنانے کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ وہاں نام نہاد طور پر ”کشمیر ی عوام“ کی حکومت ہو۔ سیاسی اقتدار در اصل ایک قسم کا سیاسی درد سر ہے۔ یہ سیاسی درد سر خواہ جس کے حصہ میں آئے، کشمیر بدستور کشمیر رہے گا۔ کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی اپنی تعمیری سرگرمیوں کے سوا کشمیر کی ترقی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ قرآن میں ہر اس چیز کا ذکر ہے جو انسان کے لیے خیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر قرآن میں آزادی یا حریت کا ذکر نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آزادی محض ایک پر فریب لفظ ہے، اس کی کوئی حقیقی معنویت نہیں۔ اس کا واضح عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں تقریباً ساٹھ مسلم ملک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page