Urdu book · امن عالم

کشمیر جنت نظیر

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

جن انہوں نے زبردست قربانی کے بعد آزادی کو حاصل کرلیا۔ مگر یہ تمام کے تمام ملک عملاً غیر آباد بنے ہوئے ہیں۔ اس کی قریبی مثالیں پاکستان اور افغانستان اور بنگلہ دیش، وغیرہ ہیں۔ ان مسلم ملکوں میں یہ ہوا کہ آزادی کی خارجی لڑائی آخر میں اقتدار کی باہمی لڑائی بن گئی۔ کشمیریوں کے لیے بھی یہی انجام مقدر ہے۔ یا تو وہ اپنی نام نہاد آزادی کی جنگ جاری رکھیں جس کا آخری انجام صرف یہ ہے کہ خارجی لڑائی داخلی لڑائی کی مہلک تر صورت اختیار کرلے۔ یا وہ اپنی موجودہ سیاسی لڑائی کو ختم کرکے اپنی ساری کوششوں کو تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دیں۔ جولائی 2001 کے آخر میں میں ایک ہفتہ کے لیے سوئزرلینڈ میں تھا۔ یہ سفر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کی دعوت پر ہوا۔ وہ لوگ ہم کو سوئزرلینڈ کے مختلف مقامات پر لے گئے اور اس طرح ہم کو سوئزرلینڈ کے بیشتر حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ہماری ٹیم میں ایک 80 سالہ کشمیری خاتون بھی تھیں ۔ انہوں نے جب سوئزرلینڈ کے حسن کو دیکھا تو وہ بے اختیار رونے لگیں۔ ان کی زبان سے نکلا کہ ہمارا کشمیر بھی ایسا ہی خوبصورت تھا مگر آج وہ تباہ ہو چکا ہے۔ کشمیر کو کس نے تباہ کیا۔ کشمیر کی تباہی کی ذمہ دار کوئی حکومت نہیں۔ اس کی ذمہ داری تمام تر ان نادان لیڈروں پر ہے جنہوں نے اپنی پرجوش تحریر و تقریر سے کشمیری نوجوانوں کو بھڑکایا اور انہیں تباہ کن جنگجُوئی کے راستہ پر ڈال دیا۔ یہ لیڈر اگر کشمیری نوجوانوں کو تعلیم اور تعمیر کے راستہ پر ڈالتے تو آج کشمیر شاید سوئزرلینڈ سے بھی بہتر ہوتا۔ مگر نااہل لیڈروں کی نااہل رہنمائی نے کشمیر کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی کے لیے شاید ایک صدی کی مدت بھی ناکافی ہو۔ ضرورت ہے کہ اب کشمیر کے عوام و خواص جنگجوئی کے راستہ کو مکمل طور پر اور ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔ وہ پر امن تعمیر کے طریقہ کو اختیار کر لیں۔ اگر کشمیر کے لوگ حقیقی فیصلہ کے ساتھ اس تعمیری راستہ کو اختیار کر لیں تو وہی وہ وقت ہوگا جب کہ کشمیر کی وادیوں میں ہر طرف یہ آواز سنائی دے ــ جاگ اٹھا کشمیر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page