Urdu book · امن عالم

جہاد کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کا تصور اسلام میں جہاد کا مادہ جہد ہے۔ جہد کے معنی ہیں کوشش کرنا (to strive, to struggle)۔ اس لفظ میں مبالغہ کا مفہوم ہے یعنی کسی کام میں اپنی ساری کوشش صرف کر دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ بَدَلَ جُھدَہُ‘ یا ’بَذَلَ مَجْھُوْدَہُ‘، یعنی اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔ لسان العرب میں ہے : وَجَھَدَ الرَّجُلُ فِي كَذَا أَي جَدَّ فِيْهِ وَبَالَغَ (جلد 3، صفحہ 133) آدمی نے فلاں معاملہ میں جدو جہد کی، یعنی اس میں مبالغہ کی حد تک کوشش کر ڈالی۔ جہاد مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی کسی کام میں اپنی ساری ممکن کوشش صرف کرنا۔ لسان العرب میں ہے : الجِهَاد: المُبَالَغَةُ وَاسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِي الحَرْبِ أَوْ اللِّسَانِ أَوْ مَا أَطَاقَ مِنْ شَيْءٍ (جلد 3، صفحہ 135)۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ (22:78) یعنی اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ عربی زبان میں جہاد اصلاً صرف کوشش یا بھر پور کوشش کے معنی میں ہے۔ دشمن سے جنگ بھی چوں کہ کوشش کی ایک صورت ہے اس لیے توسعی مفہوم کے اعتبار سے دشمن کے ساتھ جنگ کو بھی جہاد کہہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اس دوسرے مفہوم کے لیے عربی میں اصل لفظ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔ دشمن سے جنگ ایک اتفاقی واقعہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ لیکن جہاد ایک مسلسل عمل ہے جو مومن کی زندگی میں ہر دن اور ہر رات جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ مستقل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کی مرضی پر قائم رہے۔ اس قیام میں جو چیز بھی رکاوٹ ہو اس کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً نفس کی خواہش، مفاد کی طلب، رسم و رواج کا زور، مصلحتوں کے تقاضے، ذاتی انا کا مسئلہ، مال کی حرص، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عملِ صالح کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس قسم کی تمام رکاوٹوں کو زیر کرتے ہوئے اللہ کے حکم پر قائم رہنا، یہی اصل جہاد ہے، اور یہی جہاد کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اس جہاد کے بارے میں حدیث میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page