Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک راز بتایا گیا ہے ۔ وہ راز یہ ہے کہ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے ۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو ۔ اور پھر یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ جو آدمی بظاہر تمہارا دشمن دکھائی دیتا تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا ۔ اصل یہ ہے کہ دشمنی کوئی فطری چیز نہیں ، وہ ایک مصنوعی ردعمل ہے ۔ جب بھی کسی وجہ سے کوئی شخص بظاہر تمہارا دشمن بن جائے تو تم اُس کے ساتھ رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اُس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرو، خواہ یہ بہتر سلوک تم کو مفروضہ دشمن کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود یک طرفہ بنیاد پر کرنا پڑے۔ تمہارا ایک طرفہ سلوک یہ کرے گا کہ وہ دشمن کے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات کو دبا دے گا ۔ تمہارا ایک طرفہ سلوک دشمن کی سوئی ہوئی انسانیت کو جگا کر اُس کو ایک نیا انسان بنا دے گا ۔ اور یہ نیا انسان وہی ہو گا جس کو قرآن میں قریبی دوست کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا آدمی ایک ہی مشترک فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ ہر آدمی پہلے مسٹر نیچر ہے ، اُس کے بعد وہ مسٹر دشمن یا مسٹر دوست بنتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ہیں وہی آپ کا مفروضہ دشمن بھی ہے ۔ اور جو آپ کا مفروضہ دشمن ہے وہی خود آپ بھی ہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ بظاہر دشمنی کے باوجود وہ فریقِ ثانی کے اندر اپنے مشترک انسان کو تلاش کرے ۔ وہ دوسروں سے بھی وہی اُمید رکھے جو امید وہ اپنے آپ سے کیے ہوئے ہے۔ خود اپنے عمل کا نتیجہ قرآن کی سورہ الشوریٰ میں کہا گیا ہے کہ : جو مصیبت بھی تمہارے اوپر پڑتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے (42:30) ۔ قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا اسباب وعلل کے اصول پر قائم ہے ۔ جیسے اسباب ویسا نتیجہ ۔ یہ آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ کسی آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اُس کو چاہیے کہ اُس کا سبب وہ خود اپنے اندر دریافت کرے ، نہ کہ وہ اپنے سے باہر اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page