Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

سبب تلاش کرنے لگے۔ زندگی کی یہ حقیقت جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار بتا کر اُس کے خلاف تشدد کا معاملہ کرنے لگے۔ اس کے بجائے وہ صرف یہ کرے گا کہ بے لاگ طور پر اپنی زندگی کا جائزہ لے گا۔ وہ خود اپنی غلطیوں کو دریافت کرے گا تا کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے وہ مصیبت کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ مصیبت کا حوالہ دے کر دوسرے کے خلاف کارروائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض اپنے مرض کا ذمہ دار اپنے پڑوسی کو بتا کر اُس سے لڑنے لگے۔ ایک شہر جہاں کا ٹریفک ضابطہ دائیں چلو (keep right) کے اصول پر قائم ہو، وہاں اگر کوئی شخص بائیں چلو (keep left) کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے تو یقینی طور پر اُس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو جائے گی۔ یہ حادثہ اگر چہ بظاہر فریق ثانی کی گاڑی کے ٹکرانے سے پیش آیا ہوگا مگر آپ یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ فریق ثانی نے ٹکر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ اس کے برعکس صحیح طور پر آپ کو صرف یہ کہنا چاہیے کہ میں غلط رُخ پر چل رہا تھا اور فریق ثانی کی گاڑی صحیح رخ پر۔ اس لیے فریق ثانی کی گاڑی میری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ یہی معاملہ زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں کا بھی ہے۔ آپ کو جب بھی اپنی زندگی میں کسی نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو پیشگی طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ جو کچھ ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی بنا پر ہوا۔ یہی زندگی کے معاملات میں صحیح سوچ ہے۔ اگر آپ صحیح انداز میں سوچیں تو آپ اپنی اصلاح کر کے اپنے مستقبل کو بچا لیں گے ۔ اور اگر آپ اس کے برعکس یہ کریں کہ اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دیتے رہیں تو آپ اپنے مستقبل کو بھی برباد کریں گے، اور آپ کا ماضی اور حال تو پہلے ہی برباد ہو چکا ہے۔ غصہ ایک کمزوری ہے قرآن کی سورہ الشوریٰ میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : ﴿وَإِذَا مَا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page