امن عالم
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسروں کے خلاف نفرت کرے یا اُن کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔ یافت کا یہ احساس کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کے الفاظ میں، رزق رب مل رہا ہو ۔ رزق رب سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو یہ یقین حاصل ہو کہ اُس نے سچائی کو پالیا ہے ۔ اُس نے اس حقیقت کو دریافت کیا ہو کہ خالق نے اُس کو جو وجود یا ہے وہ سونے چاندی کے تمام ذخیروں سے زیادہ قیمتی ہے ۔ وہ اس طرح بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں رہے کہ پوری کائنات اُس کے لیے فکری اور روحانی خوراک کا دسترخوان بن جائے۔ جو آدمی دنیا سے اس طرح کا رزق رب پارہا ہو وہ اتنا زیادہ اوپر اُٹھ جاتا ہے کہ ملک و مال جیسی چیزیں اُس کے لیے حقیر بن جاتی ہیں۔ اُس کی یہ نفسیات اپنے آپ اُس کو امن پسند بنا دیتی ہے۔ نفرت اور تشدد جیسی چیزیں اُس کو اتنا زیادہ بے معنی معلوم ہونے لگتی ہیں کہ اُس کے پاس اس کا وقت نہیں رہتا کہ وہ کسی کے خلاف نفرت کرے یا کسی کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے ۔ جس آدمی کو زیادہ بڑی چیز مل جائے وہ کبھی چھوٹی چیز کی طرف نہیں دوڑے گا۔ امن پسندی تحفظ کا ذریعہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر سے اُس کی قوم نے کہا: وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (11:91)۔ یعنی، اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے ۔ یہ رہط پیغمبر کے مومنین کا نہ تھا، بلکہ پیغمبر کی قوم کا تھا جو ایمان نہ لانے کے باوجود قبائلی روایت کی بنا پر، پیغمبر کا تحفظ کرتے تھے۔ یہی حقیقت حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: مَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا بَعْدَهُ، إِلَّا فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر (10903) یعنی ہر پیغمبر کو خدا نے اپنی قوم کی منعہ (محافظ قوت) کے ساتھ بھیجا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ جدید طرز کا حکومتی نظام موجود نہ تھا۔ لوگ قبائل کی حمایت میں رہا کرتے تھے۔ قبائلی روایات کے مطابق ، ہر قبیلہ اس کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنے افراد کا تحفظ کرے۔ قدیم زمانہ میں یہی قبائلی روایت پیغمبروں کے لیے محافظ قوت بنی رہی ۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کے سردار ابو طالب کی طرف سے یہ منعہ حاصل تھا۔ ابو طالب اگر چہ آخر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader