Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت تک ایمان نہیں لائے مگر وہ قبائلی روایات کی بنا پر، پیغمبرِ اسلام کے مخالفین کے مقابلہ میں آپ کے لیے منعه (محافظ قوت) بنے رہے۔ (دیکھیے، السیرة النبویة لابن ہشام، جلد 1، ص 164) موجودہ زمانہ میں قبائلی نظام ختم ہو چکا ہے۔ مگر جدید تصورِ ریاست کے تحت سیکولر نظام اہل ایمان اور اہل دعوت کو یہی منعہ فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کی سیکولر حکومت اپنے ہر شہری کو یہ گارنٹی دیتی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے، اُس کو کوئی روک نہیں سکتا، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اہل مذہب یا اہل دعوت کسی کے خلاف تشدد نہ کریں۔ پیغمبروں کو قدیم زمانہ میں جو منعہ (protection) ملا وہ قبائلی منعہ تھا، نہ کہ اسلامی منعہ۔ اس کے باوجود پیغمبروں نے اُس کو قبول کیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو منعہ ملا وہ بھی سیکولر منعہ ہے، نہ کہ اسلامی منعہ۔ پیغمبروں کی سنت کے مطابق، مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اس منعہ کو قبول کرتے ہوئے اس کے ماتحت پُرامن طور پر دعوت کا کام کریں۔ مگر ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں نے سیکولرزم کو لا دینیت قرار دے کر اُس کے خلاف لفظی اور عملی لڑائی چھیڑ دی۔ اس طرح وہ غیر ضروری طور پر سیکولرزم کے حریف بن گئے۔ سیکولر نظام کے تحت ملا ہوا قیمتی منعہ استعمال ہونے سے رہ گیا۔ انسانوں کے لیے رحمت قرآن کی سورہ الانبیاء میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (21:107) یعنی ہم نے تم کو تو بس دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ساری دنیا کے انسانوں کے لیے خدا کی رحمت کا ظہور تھا۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے وہ اصول بتائے جن کو اختیار کر کے انسان ’دار السلام‘ (یونس، 10:25) میں آباد ہو سکتا ہے، یعنی امن و سلامتی کی کالونی میں۔ آپ کے ذریعہ وہ تعلیمات اُتاری گئیں جو انسانی معاشرہ کو پرامن معاشرہ بنا سکتی ہیں۔ آپ نے تاریخ میں پہلی بار امن (peace) کے تصور پر مبنی مکمل آئیڈیالوجی پیش کی۔ آپ نے زندگی کا وہ فارمولا بتایا جو آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page