امن عالم
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جب کہ لوگ حکمران کے خلاف عملی ٹکراؤ کی مہم شروع کردیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سے بچتے ہوئے صرف قولی نصیحت پر اکتفا کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہے گا، سماج کبھی بھی تشدد کا جنگل نہیں بنے گا۔ پرامن طریق کار زیادہ بہتر ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ معاملات میں پیغمبرِ اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، إِلَّا اِخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملہ میں دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کرتے تھے۔ اختیارِ ایسر کے اس اصول کو اگر متشددانہ طریق کار اور پرامن طریق کار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اُس سے نمٹنے کے لیے متشددانہ طریق کار کو اختیار نہ کیا جائے بلکہ پر امن طریق کار کو اختیار کیا جائے۔ کیوں کہ متشددانہ طریق کار یقینی طور پر مشکل ہے اور پرامن طریق کار یقینی طور پر آسان۔ تاہم یہ سادہ طور پر صرف آسان اور مشکل کا معاملہ نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پرامن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے اور متشددانہ طریقہ یقینی طور پر بے نتیجہ ہے۔ وہ مسئلہ کو حل نہیں کرتا البتہ اُس میں کچھ اور اضافہ کر کے اُس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حدیث میں مشکل طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول مشکل ہو۔ اس کے مقابلہ میں آسان سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول آسان اور یقینی ہو۔ لچک کا طریقہ، نہ کہ اکڑ کا طریقہ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس حدیث میں مومن، بالفاظ دیگر،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader