دیباچہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
جلد 1، صفحہ 129۔ مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں قلب سے مراد مرکزِ تفکیر نہیں ہے بلکہ مرکزِ دورانِ خون ہے۔ اس حدیث میں قلب اور جسد کا ذکر بطورِ تمثیل ہے۔ یعنی جس طرح جسمانی تندرستی کا انحصار قلب کی تندرستی پر ہے اسی طرح دینی زندگی کا قیام و بقا اس پر منحصر ہے کہ آدمی کے اندر زندہ ایمان موجود ہو۔ انسان کے اعمال کی درستگی ہمیشہ اُس کی فکر کی درستگی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام میں سارا زور فکرِ صحیح کو زندہ کرنے پر دیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں جنگ اسلام کے ایجابی نقشۂ عمل سے خارج ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر حال میں سارا زورِ فکر و شعور کی بیداری پر دیا جائے۔ انسانی نفسیات کے مطابق، سوچ سے عمل پیدا ہوتا ہے، مگر عمل سے سوچ نہیں پیدا ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ اسلام کے نقشۂ اصلاح کو بگاڑنے والی ہے، جنگ اسلام کے نقشۂ اصلاح کو بنانے والی نہیں۔ خواہ اسلام ہو یا غیرِ اسلام، کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ جنگ اور تشدد کے ذریعہ کوئی مثبت فائدہ حاصل کر سکے۔ اس لیے جنگ کو ٹالنے کی تمام کوششوں کے باوجود اگر اضطراری طور پر جنگ کی نوبت آجائے تو اہل اسلام کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ جلد سے جلد جنگ کا ماحول ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ امن کے ماحول میں اسلام کا اصل مثبت کام جاری ہو سکے۔ جہاد کیا ہے ۔ جہاد پر امن جد و جہد کا دوسرا نام ہے۔ آج کل کی زبان میں جہاد کو پیس فل ایکٹوزم (peaceful activism) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کسی اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ جہاد کے لفظی معنی کوشش یا جدوجہد کے ہیں۔ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی کتاب کے ذریعہ ان کے اوپر جہاد کبیر کرو (الفرقان، 25:52)۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے: اَلْمُجَاہِدُ مَنْ جَاہَدَ نَفْسَہٗ فِی طَاعَةِ اللّٰہِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23967)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس سے مقابلہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے۔ یہ ایک مہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader