Urdu book · امن عالم

دیباچہ

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

تھی جس میں کوئی جنگ پیش نہیں آئی۔ واپسی کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں (رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ)۔ دیکھیے، البیهقی، الزہد الکبیر، حدیث نمبر 373۔ جہاد تمام تر ایک پر امن عمل کا نام ہے۔ انفرادی اعتبار سے جہاد یہ ہے کہ آدمی نفس کی ترغیبات سے اور ماحول کی ناخوشگواریوں کے باوجود خدا کے پسندیدہ راستہ کو نہ چھوڑے۔ مخالفانہ اسباب کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو حق کی روش پر قائم رکھے۔ اجتماعی اعتبار سے جہاد کو پرامن جدوجہد کہا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اسلامی مقصد کے لیے جب کوئی تحریک اٹھائی جائے تو اس کو مجاہدانہ انداز سے آگے بڑھایا جائے نہ کہ متشددانہ انداز سے۔ متشددانہ انداز میں آدمی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مجاہدانہ انداز یہ ہے کہ ترغیب کے فطری طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کیا جائے۔ مجاہدانہ اسلوب میں سب سے زیادہ اعتماد ذہنی بیداری پر کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر صحت منداسپرٹ جگائی جاتی ہے۔ تعمیری شعبوں میں مثبت استحکام پر ابھارا جاتا ہے۔ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کے اندر اعلیٰ کردار پیدا ہو۔ لوگ دوسروں کے لیے نفع بخش بنیں ۔ لوگوں کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہو۔ جہاد کا ہتھیار محبت ہے، نہ کہ نفرت اور تشدد۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد کو قتال کے ہم معنی سمجھنا جہاد کی تصغیر ہے۔ قتال ایک بے محدود اور وقتی عمل ہے۔ اس کے برعکس جہاد ایک مسلسل اور ہمہ گیر عمل ہے۔ جہاد اسلام کا ایک عظیم ترین عمل ہے جو انسان کی زندگی میں ہر دن اور ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں موقوف نہیں ہوتا۔ آدمی کے اندر جب سچائی کی تلاش کا جذبہ ابھرتا ہے تو وہ ایک فکری جہاد میں مشغول ہو جاتا ہے۔ پھر جب اُس کو سچائی کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اُس کی زندگی میں جہاد مزید اضافہ کے ساتھ جاری ہو جاتا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ نفس اور شیطان اور ماحول کے مقابلہ میں جدوجہد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page