Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا پرست انسان کی مثال خامہ سے دی گئی ہے ۔ خامہ نرم پودے کو کہتے ہیں ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن کا حال نرم پودے کی طرح ہے ۔ جب بھی ہوا کا کوئی جھونکا آتا ہے تو وہ اُس کے مطابق ، جھک جاتا ہے ۔ اور جب جھونکا چلا جائے تو وہ دوبارہ اُٹھ جاتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بلا اور مصیبت سے بچالیتا ہے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 5644 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2810)۔ اس حدیث کے مطابق ، کسی طوفان کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ اُس کے مقابلہ میں اکڑ دکھائی جائے ۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اُس کے مقابلہ میں لچک کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مقابلہ کا ایک طریقہ متشددانہ طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ پر امن طریقہ ۔ خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا جائے اور دوسرے طریقہ کو اختیار کیا جائے ۔ طوفان کے مقابلہ میں جو لوگ اکڑ کا طریقہ اختیار کریں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ انانیت میں مبتلا ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں امن کا طریقہ تواضع پر مبنی ہے ۔ خدا کی اس دنیا میں انانیت کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تباہی ہے اور تواضع کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے کامیابی ۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے : من تواضع رفعه الله ( مسند الشہاب ، حدیث نمبر 335 ) ۔ یعنی جس نے تواضع کی روش اختیار کی ، خدا اُس کو بلندی عطا فرمائے گا۔ پر امن شہری حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ : المؤمن من أمنه الناس علی دمائهم واموالهم ( سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2627) یعنی مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں مامون ہوں۔ کسی سماج میں رہنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ رہے ۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرتا رہے ۔ اس حدیث کے مطابق ، ایمانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان پر امن شہری بن کر رہے۔ دوسروں کی جان اور مال اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page