Urdu book · امن عالم

ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچا کہ مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔ میں نے پیسہ خرچ کر کے اپنے گھر کے ہر فرد کے لیے لائسنس بنوایا اور پھر گھر کے ہر فرد کے نام گن اور ریوالور حاصل کر لیا ۔ اب میں اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محفوظ سمجھتا ہوں۔ اب مجھے دنگے اور فساد کا کوئی ڈر نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ تجارت کا اصول جانتے ہیں مگر آپ سماجی زندگی کے اصول کو نہیں جانتے ۔ سماجی تحفظ کا ذریعہ گن اور ریوالور نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کا اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے بہترین پڑوسی بن کر رہیں ۔ آپ دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں ۔ اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اگر آپ دوسروں سے نفرت کریں تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو نفرت ملے گی اور اگر آپ کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت اور خیر خواہی کا تحفہ ملے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کے گھر کے سامنے غیر قوم کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے اور آپ اپنی بالکنی پر کھڑے ہو کر اُس کے اوپر گولی چلا دیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بس اتنے ہی پر معاملہ ختم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ انسانوں کے اوپر گولی چلانا آپ کے لیے قابل دست اندازی پولیس جرم (cognizable offence) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ چنانچہ جب بھی ایسا ہوگا تو پولیس فوراً وہاں آجائے گی اور آپ ہرگز پولیس سے لڑنہیں سکتے۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کے پاس گن ہونا اور پولیس کے پاس گن ہونا دونوں میں بے حد بنیادی فرق ہے۔ آپ گن رکھنے کے باوجود کسی کو گولی مارنے کا قانونی حق نہیں رکھتے۔ لیکن پولیس کے پاس گن ہے تو وہ گولی مارنے کا قانونی حق بھی رکھتی ہے۔ غیر قوم کے مقابلہ میں بظاہر مقابلہ دو مساوی فریق کے درمیان نظر آتا ہے مگر جب معاملہ آپ کے اور پولیس کے درمیان کا ہو جائے تو یہ مقابلہ مکمل طور پر غیر مساوی ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں آپ کا گولی چلانا اپنے نتیجہ کے اعتبار سے، آہیل مجھے مار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا اقدام تحفظ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف ہلاکت کی حیثیت رکھتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page