ضمیر بہترین جج ہے
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
ضمیر بہترین حج ہے ایک شہر میں ایک مسلمان نے اپنے لیے نیا گھر بنایا۔ گھر سے ملی ہوئی ایک زمین کو انہوں نے حصار بنا کر اپنے گھر میں داخل کر لیا۔ اُن کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکیدار تھا۔ اس ہندو ٹھیکے دار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اُس کی ہے۔ چنانچہ اُس نے شہر کے کٹر ہندوؤں سے مل کر انہیں بھڑکایا۔ یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہو گئی، اور نعرے لگانے لگی۔ مذکورہ مسلمان کے پاس اُس وقت دو بندوقیں تھیں۔ مگر انہوں نے بندوق نہیں اٹھائی۔ وہ تنہا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انہوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ ایک صاحب جن کا نام مسٹر سؤنڈ تھا، آگے بڑھے اور کہا، وہ میں ہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے اور مسٹر سؤنڈ کو لے کر گھر کے اندر آگئے ۔ اُن کو کمرہ میں لا کر اُنہیں کرسی پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر سؤنڈ آپ لوگ کس سلسلہ میں یہاں آئے۔ مسٹر سؤنڈ نے غصہ میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کا کاغذ پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کاغذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجئے کہ میرے پاس جو کاغذات ہیں اُن کو لے لیجے اور ٹھیکیدار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں اُن کو بھی لے لیجے ۔ اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملہ میں میں آپ ہی کو حج بناتا ہوں۔ آپ کا غذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔ یہ سن کر مسٹر سؤنڈ بالکل نارمل ہو گئے ۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے تھے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے ۔ انہوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہم کو حج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کاغذات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سؤنڈ نے اس کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader