دیباچہ
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہوئے اپنے ایمان کو مسلسل بڑھائے۔ وہ اپنے اندر مثبت ذہنی عمل کو اس طرح جاری رکھے کہ اُس کی معرفت ہر لمحہ ترقی کرتی رہے۔ یہاں تک کہ وہ مقامِ اعلیٰ تک پہنچ جائے۔ حدیث میں آیا ہے: اَلْإِيْمَانُ يَزِيْدُ وَيَنْقُصُ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 74)۔ یعنی ایمان بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ ایمان کو نقص (erosion) سے بچانا ایک مسلسل جہاد کا طالب ہے۔ اجتماعی زندگی میں رہتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر غصہ، حسد، انتقام، غرور، ناشکری، حرص جیسے جذبات کا حملہ ہوتا ہے۔ یہ منفی جذبات انسان کے ایمان کو ضعیف یا ناقص کر دینے والے ہیں۔ اُس وقت آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے شعور کو بیدار کر کے اپنے داخلی احساسات سے لڑے اور اُن کو زیر کر کے ختم کرے۔ یہ ایک جہاد ہے اور اس جہاد کے بغیر کوئی شخص اپنے ایمان کو نقص یا ضیاع سے نہیں بچاسکتا۔ نئی دہلی، 25 مئی 2004 روں نے آپ کے ایمان کو کیا یہ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader