جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
مسئلہ درپیش تھا۔ قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر قرآن میں کل آیتوں کی تعداد 6,236 ہے۔ ان میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر جنگ (قتال) سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس تناسب کے اعتبار سے قرآن میں جنگ سے تعلق رکھنے والی آیتوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے (precisely 0.6 per cent)۔ اس قسم کا فرق ہر ملک کے دستور میں اور ہر مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً بائبل (New Testament) میں بہت سی پر امن تعلیمات ہیں۔ اسی کے ساتھ مسیح کی زبان سے اس میں یہ قول بھی موجود ہے کہ میں صلح کروانے نہیں آیا ہوں بلکہ تلوار چنوانے آیا ہوں: I do not come to bring peace but a sword. (Matthew 10:34) اسی طرح بھگوت گیتامیں بہت سی اخلاق اور حکمت کی باتیں ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ گیتا میں یہ بھی موجود ہے کہ کرشن نے ارجن سے اصرار کے ساتھ کہا کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور جنگ کر۔ مگر ظاہر ہے کہ بائبل اور گیتا میں ان اقوال کی حیثیت استثنا کی ہے، نہ کہ عموم کی۔ اسلام کی امن پسندی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ یک طرفہ حملہ کے ذریعہ عملی طور پر جارحیت کی صورت پیدا کردے تو اس وقت ایک ناگزیر برائی (necessary evil) کے طور پر دفاع کی ضرورت کے تحت جنگ کی جائے گی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39) یعنی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ مگر جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، ان کے خلاف محض دشمنی کی بنا پر جنگی کارروائی کی اجازت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت اہل اسلام کو ایک واضح ہدایت دیتی ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تم کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader