جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
لو۔ ہر دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بناؤ، اس کے بعد تمہیں کسی سے دشمنی کی شکایت نہ ہوگی۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ اس روایت میں پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو بتاتے ہوئے آپ کی اہلیہ عائشہ نے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله علیه و سلم بین امرين إلا اختار أيسر هما ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ یہ واضح ہے کہ طریق کار کی دو قسمیں ہیں۔ پر تشدد طریقہ کار (violent method) اور پر امن طریقہ کار (peaceful method)۔ اب دونوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی نزاعی معاملہ کے وقت پر تشدد طریقہ کار کو اپنانا مشکل انتخاب (harder option) ہے اور پر امن طریقہ کار کو اپنانا آسان انتخاب (easier option) ہے۔ اس کے مطابق، اسلام کی جنرل پالیسی یہ قرار پاتی ہے کہ جب بھی کسی فریق سے کوئی نزاع پیدا ہو تو اس سے مقابلہ کے لیے ہمیشہ پر امن طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے، نہ کہ پر تشدد طریقہ کار۔ موجودہ زمانہ میں جب کہ آزادی کو انسان کا ایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تو اب صرف پر امن طریقہ کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلمہ اصول کے مطابق، پر تشدد طریقہ کار کو اختیار کرنے میں تو یقیناً رکاوٹیں ہیں مگر پر امن طریقہ کار کو اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کر رہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذارسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader