جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
نے پیغمبر اسلام کے خلاف جارحانہ کاروائی کر کے آپ کو لڑنے پر مجبور کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلم حق بن چکی ہے ۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لیے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔ اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فریق مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پرامن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔ پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا۔ اسی صبر و اعراض کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ کیا کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سومیل کا فاصلہ ہے۔ مگر مکہ کے مخالفین نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ انہوں نے باقاعدہ طور پر مدینہ پر اقدامی حملے شروع کر دئے۔ ان حملوں کو سیرت کی کتابوں میں غزوہ کہا جاتا ہے۔ چھوٹے اور بڑے غزوات کی تعداد 83 شمار کی گئی ہے۔ مگر پیغمبر اسلام اور مخالفین کے درمیان صرف تین بار باقاعدہ جنگ (fullfledged war) ہوئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 80 غزوات میں پیغمبر اسلام نے اعراض اور حسن تدبیر کے ذریعہ دونوں فریقوں کے درمیان عملی مقابلہ کو ٹال دیا۔ صرف تین بار (بدر، احد، حنین) میں مجبورانہ حالات کی بنا پر آپ کو جنگی مقابلہ کرنا پڑا۔ جنگی مقابلہ سے اعراض کی اسی پالیسی کی ایک مثال وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ جب پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان جنگی صورت حال پیدا ہوگئی تو آپ نے یہ کوشش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader