جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع کی کہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ جنگی حالات کو ختم کر دیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان پر امن فضا کو بحال کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے اپنے مخالفین سے صلح کی گفت و شنید شروع کی جو دو ہفتہ تک جاری رہی۔ یہ گفت و شنید مکہ سے دس میل دور حدیبیہ کے مقام پر ہوئی اس لیے اس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ گفت و شنید کے دوران پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ فریق ثانی اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ آپ نے فریق مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو ختم کیا جائے اور نارمل فضا کو قائم کیا جائے تا کہ معتدل حالات میں دعوت و تعمیر کا وہ کام کیا جاسکے جو اصلا اسلامی مشن کا مقصود تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوتے ہی حالات معمول پر آگئے اور اسلام کی تمام تعمیری سرگرمیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری ہو گئیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ اسلام پورے علاقہ میں پھیل گیا۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جنگ صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے، وہ غیر حکومتی افراد یا اداروں کا کام نہیں۔ غیر حکومتی ادارے اگر کسی اصلاح کی ضرورت محسوس کریں تو وہ صرف امن کے دائرے میں رہ کر اپنی تحریک چلا سکتے ہیں، تشدد کی حد میں داخل ہونا ان کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں۔ ایک یہ کہ غیر حکومتی تنظیموں کے لیے کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا جائز نہیں۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ حکومت کے لیے اگرچہ دفاعی جنگ حکماً جائز ہے مگر اس کے لیے بھی اعلان کی شرط ہے، اسلام میں بلا اعلان جنگ قطعا جائز نہیں۔ ان دو شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ گوریلا وارار اور پراکسی وار دونوں ہی اسلام میں ناجائز ہیں۔ گوریلا وار اس لیے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے کی جاتی ہے اور پراکسی وار اس لیے کہ اس میں اگرچہ حکومت بھی شامل رہتی ہے مگر اس کی شمولیت بغیر اعلان کے ہوتی ہے۔ اور اعلان کے بغیر جنگ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader