Urdu book · امن عالم

جنگ اور امن اسلام میں

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

جوازِ اسلامی حکومت کے لیے بھی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ (8:58)۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازماً دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ نزاع کو متششد دانہ ٹکراؤ تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ اسی پالیسی کو قرآن میں صبر واعراض کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں ایک مستقل اصول کے طور پر فرمایا کہ اَلصُّلْحُ خَيْرٌ (النساء، 4:128)۔ یعنی باہمی نزاع کے وقت صلح کر کے نزاع کو ختم کر دینا نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صلح یا مصالحت کا طریقہ اختیار کرنے سے یہ موقع مل جاتا ہے کہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ میں ضائع کرنے سے بچایا جائے اور ان کو پوری طرح تعمیری کاموں میں لگایا جائے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3560؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327؛ ابوداؤد، حدیث نمبر 4785؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1984؛ مسند احمد، حدیث نمبر 24549) یعنی تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن مانگو۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ (6:54) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اس قرآنی آیت سے جنگ اور امن کے بارے میں اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لوگ بار بار جنگ پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ دنیا کے مخصوص نظام کا تقاضا ہے جو مسابقت (competition) کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ مگر اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ دوسرے لوگ جب جنگ کی آگ بھڑکائیں تو وہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ اس آگ کو ٹھنڈا کردیں۔ گویا اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراض جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے پیغام بر بنیں۔ وہ دنیا میں امن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔ اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page