Urdu book · امن عالم

جنگ اور امن اسلام میں

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

تو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لیے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کر کے ان سے معاہدے کیے۔ اس طرح آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازہ امن میں باندھ دیا۔ اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جو جنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔ جنگ کرنے والا جنگ کیوں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے سیاسی طاقت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ ان دونوں مقاصد کے لیے اسلام میں جنگ کا کوئی جواز موجود نہیں۔ جہاں تک دشمن کا معاملہ ہے، اس معاملہ میں جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ایک آیت ابدی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کرو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ اس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کی دشمنی کو ختم کیا جائے، نہ کہ خود دشمن کو۔ اس کے مطابق، کوئی دشمن حقیقی دشمن نہیں ہوتا۔ ہر دشمن انسان کے اندر بالقوہ طور پر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس لیے اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ حسن سلوک کے ذریعہ اس چھپے ہوئے انسان تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ وہ حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنا لیں۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ دشمن کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس سے نفرت کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ حسن تدبیر کے ذریعہ اس کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اگر کسی کی طرف سے یک طرفہ پر حملہ کر دیا جائے تو ایسے حملہ آور کے مقابلہ میں دفاع کے طور پر جنگ کرنا جائز ہے۔ یہ حکم قرآن کی جن آیتوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page