جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا (2:190) یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، اور زیادتی نہ کرو۔ اس طرح کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ کوئی فریق یک طرفہ طور پر اہل اسلام کے خلاف جارحانہ حملہ کر دے۔ اس قسم کی عملی جارحیت کے بغیر اسلام میں جنگ کی اجازت نہیں۔ جنگ اور امن کے معاملہ میں اسلام کا جو بنیادی اصول ہے وہ قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ (9:7) یعنی پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو۔ اس قرآنی حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے درمیان باہمی تعلقات کا اصول یہ ہے کہ اگر دوسرا فریق امن پر قائم ہو تو اہل اسلام کو بھی لازماً امن کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ اہل اسلام ایسا نہیں کر سکتے کہ فریق ثانی کی پرامن روش کے باوجود کوئی عذر لے کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرنے لگیں۔ اس معاملہ میں عملی جارحیت کے سوا کوئی بھی دوسرا عذر قابل قبول نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں مکہ میں ہوئی۔ 610ء میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ 23 سال تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس 23 سالہ مدت کے ابتدائی 13 سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے 10 سال مدینہ میں۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دور میں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا کیا۔ آپ نے لوگوں کو اقْرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (96:1) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آیتیں سنائیں۔ آپ لوگوں سے یہ کہتے رہے کہ أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16023)۔ یعنی اے لوگو، تم لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہو جاؤ گے۔ آپ نے لوگوں کو دعا اور عبادت کے طریقے بتائے۔ لوگوں کو اخلاق اور انسانیت کی تعلیم دی۔ لوگوں کو بتایا کہ دوسرے لوگ جب تم کو ستائیں تب بھی تم صبر و اعراض کے ساتھ زندگی گزارو۔ آپ نے قرآن کو ایک اصلاحی کتاب اور ایک دعوتی کتاب کے طور پر لوگوں کے درمیان عام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader