Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب انسانی تخلیق نہیں

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ انھوں نے کچھ جانور مقرر کئے جو باپ کی طاقت کا نشان تھے۔ اس کے بعد انھوں نے جشن منانے شروع کئے جس میں وہ طرح طرح سے اپنے ان عقائد کا اظہار کرتے۔ یہی چیز دھیرے دھیرے مذہب بن گئی۔ مگر اس عجیب و غریب نظریہ کے لیے بعد کے محققین کو کوئی تاریخی ثبوت نہ مل سکا۔ "باپ" کو مذکورہ بالا شکل میں کھا جانے کی مثال امکانی طور پر ساری تاریخ میں صرف آسٹریلیا میں اور وہ بھی ایک بار ملتی ہے اور وہاں بھی شہادتیں بہت غیر واضح ہیں۔ اس کی کوئی تاریخی، اثریاتی یا کوئی اور شہادت نہیں ہے کہ مذہب اس طرح بیٹوں کی طرف سے باپ کو قتل کرنے کے واقعات سے شروع ہوا۔ یا یہ کہ مذہب ساری دنیا میں ایک ہی جگہ سے پھیلا ہے یا ہر ملک میں اسی خاص ڈھنگ سے شروع ہوا۔ مذہب کے آغاز کے نفسیاتی یا سماجی نظریات کے بالکل برعکس کچھ مصنفین نے دعویٰ کیا ہے کہ قدیم ترین مذہبی عقیدہ ایک برتر ہستی کا عقیدہ تھا۔ اینڈریو لیسنگ (Andrew Lang) نے 1898ء میں مذہب کی تشکیل (The Making of Religon) اور وہلم اسمتھ (Wilhelm Schmidt) نے خدا کے تصور کی ابتدا (The origin of the Idea of God) شائع کی جس میں شدت سے یہ نظریہ پیش کیا گیا۔ لیسنگ نے طویل سفر کیے اور برس ہا برس تک تمام دنیا سے شہادتیں جمع کرتا رہا۔ اور بتایا کہ ایک خدا کا عقیدہ انتہائی ابتدائی انسانوں میں پایا جاتا رہا ہے اور اس کو پہلی مذہبی صورت کہا جا سکتا ہے۔ بعد کے مصنفین نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ بہت سے ابتدائی قبائل میں ایک خدا کا تصور پایا جاتا ہے، یہ کہا کہ تاہم اسی کے ساتھ دوسرے دیوتاؤں کا تصور بھی ہے۔ اس طرح ”ایک خدا کا تصور گو یا کئی خداؤں کو ماننے ہی کا ایک جز ہے۔ مذہب کے آغاز کے بارے میں پچھلے مفروضوں کے غلط ثابت ہونے کی وجہ سے اب اس میدان میں کام کرنے والے علماء بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ اب اگر مذہب اتنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page