Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب انسانی تخلیق نہیں

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اور فرانسیسی مصنف امانیل ڈرھیم (David Emile Durkheim) نے 1912ء میں مذہب پر اپنی کتاب شائع کی۔ اس نے زور دیا کہ مذہب ایک سماجی واقعہ (social fact) ہے، نہ کہ انسان کی نفسیات کی پیداوار۔ مذہب وہم نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہ ہر دور میں ہر جگہ پایا گیا ہے۔ اس نے اخلاق اور قانون کے بڑے بڑے نظام قائم کیے ہیں۔ تاہم ڈرھیم کے نزدیک مذہب خود سماج کی پرستش کا نام تھا، اگرچہ وہ پر اسرار علامتوں کے بھیس میں ظاہر ہوتا ہے۔ ڈرھیم نے اپنا تصور آسٹریلیا کے بعض قدیم قبائل سے لیا۔ مگر اس انتخاب میں ڈرھیم کی غلطی چھپی ہوئی تھی، کیوں کہ وہ کبھی آسٹریلیا نہیں گیا۔ اس نے دوسروں کی فراہم کردہ ناقص معلومات پر اپنی نظریہ کی بنیاد رکھ دی اور پھر اس سے مستنبط کر لیا کہ تمام دنیا کے لوگ آسٹریلیا کے انھیں قدیم قبائل کے مطابق عمل کرتے تھے۔ یہ قدیم قبائل بعض پودوں اور جانوروں کو مقدس مانتے تھے اور ان کو کھانا حرام سمجھتے تھے۔ بعض مشابہتوں کی وجہ سے ڈرھیم نے اس کو شمالی امریکا کے انڈین قبائل کے ٹوٹم (Totem) کے مماثل سمجھا اور کہا کہ یہ پودے اور جانور قبیلہ کے سماجی آدرشوں کا نشان تھے جو بالا آخر مذہب کی صورت اختیار کر گئے۔ مگر نہ صرف ٹوٹم کا یہ تصور بطور واقعہ باطل ہوا، بلکہ یہ بھی تاریخی طور پر ثابت نہ ہوسکا کہ ٹوٹم کا عقیدہ مذہب کے عقیدے سے پہلے پایا جاتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ کمزور توجیہ وہ تھی جو آسٹریلیا کے نفسیات داں سگمنڈ فرائڈ نے 1913ء میں پیش کی۔ اس نے اپنی کتاب Totem and Taboo میں بحر الکاہل کے علاقہ کے بعض قبائل کی کہانی لکھی کہ قدیم زمانہ میں ایک طاقتور باپ خاندان کی تمام عورتوں کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کئے ہوئے تھا۔ بعد کو جب لڑکے جوان اور طاقتور ہوئے اور باپ بوڑھا ہو گیا تو ایک دن انھوں نے باپ کو قتل کر ڈالا اور عورتوں کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ مزید یہ کہ یہ قاتلین اپنے مقتول (باپ) کو کھا گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ باپ کی روح ان کے اندر آ گئی، جس سے وہ ڈرتے تھے، جس کو وہ بر تر سمجھتے تھے۔ اسی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page