Urdu book · عقلیات اسلام

طبیعیات سے مابعدالطبیعیات کی تصدیق

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

طبیعیات سے ما بعد الطبیعیات کی تصدیق لندن سے ایک انسائیکلوپیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے’’قاموس جہالت‘‘۔ اس میں ساٹھ مشہور سائنسداں مختلف علمی شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان کن چیزوں کے بارے میں ابھی تک لاعلم ہے۔ یہاں ان میں سے دس مختلف سائنس دانوں کا بیان نقل کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے تحقیقی شعبوں کے بارے میں بتایا ہے کہ ان کے شعبہ کی واحد سب سے بڑی نامعلوم حقیقت کیا ہے۔ 1۔ کائنات اتنی یکساں کیوں آتن رکسبرگ، پروفیسر تطبیقی ریاضیات، کوئن میری کالج ، لندن: کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کیے گئے ہیں، وہ محکمی اعداد پر مشتمل ہیں جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً 1840 کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے محکمی طور پر انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لیے ان اعداد میں وہی متناسب قدر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔ 2۔ کیا کوئی زڈ ذرہ ہے عبدالسلام، پروفیسر نظری طبیعیات، امپیریل کالج، لندن : اگلے دس برسوں میں ہمیں یا تو زڈ ذرہ کا وجود تسلیم کرنا ہے یا یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ اگر اس کا وجود ثابت ہو گیا جیسا کہ موجودہ نظریہ کی پیشین گوئی ہے تو اس کے بعد عالم فطرت کی چار طاقتیں جن کا ہمیں علم ہے ان میں سے دو طاقتوں کا ایک ہونا ثابت ہو جائے گا (یہ چار طاقتیں یہ ہیں: کشش، برقی مقناطیسیت، طاقتور نیوکلیئر فورس جو کہ ایٹم کے نیوکلیس کو آپس میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page