ایک مثال
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اوپر اندھیرے اور اُجالے کا ایک تیز تسلسل (Rapid Succession) جاری ہے۔ یعنی زمین کی سطح پر اندھیرا اور اجالا اس طرح آگے پیچھے چل رہے ہیں جیسے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے دوڑ رہے ہوں۔ عجیب بات ہے کہ زمین پر رات اور دن کے بارے میں عین یہی تعبیر خود قرآن میں موجود ہے جو انسان کے خلائی سفر سے چودہ سو برس پہلے نازل ہوا تھا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا (7:54)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اللہ اڑھا تا ہے رات پر دن کو، وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا ۔ زمین ایک گول کرہ ہے۔ وہ خلا میں ہے۔ وہ اپنے محور (axis) پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے سامنے گھوم رہی ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کی بنا پر زمین کی سطح پر وہ منظر پیدا ہوتا ہے جس کو گگارن نے اپنے خلائی مشاہدہ میں ان الفاظ میں بیان کیا کہ۔ زمین کے اوپر میں نے روشنی اور تاریکی کو تیزی سے ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا۔ بطور واقعہ گگارن کا بیان صدفی درست ہے۔ مگر زمین پر رہ کر کوئی شخص ایسا بیان نہیں دے سکتا۔ زمینی مشاہدہ کسی آدمی کو یہ منظر نہیں دکھاتا، اس لیے زمین پر رہتے ہوئے کوئی شخص یہ الفاظ بھی نہیں بول سکتا۔ یہ منظر کسی آدمی کو صرف اس وقت دکھائی دیتا ہے جب کہ وہ زمین کی سطح سے 20 ہزار میل اوپر اٹھے اور خلا میں پہنچ کر دوربین کے ذریعہ زمین کا مشاہدہ کرے یہ زمین کو خلا سے دیکھنے والے شخص کے الفاظ ہیں نہ کہ زمین کو زمین سے دیکھنے والے شخص کے الفاظ۔ گگارن سے پہلے کوئی انسان خلا میں نہیں گیا۔ اور نہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں خلائی سواریاں وجود میں آئی تھیں کہ آپ ان کے ذریعہ خلا میں پہنچ کر زمین کے بارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader