Urdu book · عقلیات اسلام

خدا، رسالت، آخرت

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا، رسالت، آخرت موجودہ دنیا مادی دنیا ہے۔ مگر یہاں مادی واقعات کی صورت میں معنوی حقیقتوں کی تمثیلات قائم کردی گئی ہیں۔ آدمی اگر سنجیدہ ہو اور وہ چیزوں کو غور و فکر کے ساتھ دیکھے تو وہ یہاں ہر قسم کے اطمینان بخش دلائل پالے گا۔ وہ معتقدات کے حق میں یقینیات کی زمین حاصل کرلے گا۔ خدا کی تمثیل خدا کی تمثیل خود انسان کا اپنا وجود ہے۔ انسان کا وجود خدا کے وجود کی دلیل ہے۔ "خدا" کیا ہے۔ ایک زندہ ہستی جو خود اپنی ذات میں قائم ہو۔ جو سوچے، جو دیکھے اور سنے۔ جو اپنے ارادہ کے تحت عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ جو خود اپنے آپ کو جانتا ہو اور دوسروں سے بخوبی طور پر واقف ہو۔ جو تمام موجودات سے الگ اپنی ایک "انا" رکھتا ہو۔ یہ سب کچھ عین وہی ہے جس کو "اننسان" کی صورت میں ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ ہر آدمی "میں" سے بخوبی طور پر واقف ہے۔ خدا پر ایمان اسی "میں" کی ایک برتر صورت پر یقین رکھنا ہے۔ انسان جب صفات اور خصوصیات کے ساتھ اپنی ذات کا تجربہ کر رہا ہے، انھیں صفات اور خصوصیات والی ایک برتر ذات ہے جس کو ہم خدا یا اللہ کہتے ہیں۔ اگر میرا وجود یقینی ہے تو خدا کا وجود کیوں یقینی نہیں۔ اگر میں ایک مقام پر بیٹھ کر کائنات کو دیکھ رہا ہوں تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اسی طرح ایک عظیم تر ہستی کہیں متمکن ہو کر کائنات کا مشاہدہ کررہی ہو۔ اگر میں ریموٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعہ خلا میں ایک مشین کو چلاتا ہوں تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اسی طرح ایک خدا اپنے نظام کے تحت کائنات کو چلا رہا ہو۔ اگر میں اپنے تصور عدل کے مطابق کسی کو سزا یا انعام دیتا ہوں تو اس میں استبعاد کیا ہے کہ اسی طرح ایک طاقت ور خدا اتمام انسانوں پر اپنے تصور عدل کے مطابق سزا اور جزا کا نافذ کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page