Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ خدا کے وجود کو تسلیم کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسان کے وجود کو تسلیم کرنا۔ خدا کو ماننا بلاشبہ عجیب ہے۔ مگر انسان کو ماننا بھی اتناہی عجیب ہے۔ پھر ایک عجیب کو مان لینے کے بعد دوسرے عجیب کو ماننے میں کیا رکاوٹ۔ پیغمبر کی تمثیل ہم لندن سے بول رہے ہیں، اب آپ آج کی تازہ خبریں سنیے۔‘‘ یہ الفاظ ایک شخص ہم سے دور لندن میں بیٹھ کر بولتا ہے۔ ہم اس کو براہ راست نہیں سن پاتے۔ لیکن جب ہم اپنا ریڈیو یوسٹ چلاتੇ ہیں تو ہم فورا اس آواز کو سننے لگتے ہیں۔ دور کا ایک ریڈیو اسٹیشن ہماری قابل فہم زبان میں ہمارے لیے پروگرام نشر کرتا ہے، ہم اس کو براہ راست اپنے کان سے نہیں سن پاتے۔ لیکن جب ہم ریڈیو یوسٹ کا سہارا لیتے ہیں تو ہزاروں میل دور سے نشر ہونے والا پروگرام ہم کو اس طرح سنائی دینے لگتا ہے جیسے کہ ہمارے اور نشر گاہ کے درمیان کا فاصلہ ختم ہو گیا ہو اور ہم براہ راست اس کو سننے لگے ہوں ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ بلاتشبیہ پیغمبر کا بھی ہے۔ پیغمبر گویا ہمارے لیے ایک قسم کا ریڈیو یوسٹ ہے۔ وہ ہمارے اور خدائی نشر گاہ کے درمیان یقینی واسطہ کا کام کرتا ہے۔ جس طرح عام ریڈیو یا ٹرانسٹریہ کرتا ہے کہ نشر گاہ کی خبریں اور پروگرام وصول کر کے دوبارہ ہمیں سناتا ہے۔ اسی طرح خدا پیغمبر کو یہ طاقت دے دیتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والی آوازوں کو اخذ کر سکے۔ پیغمبر خدا کی خصوصی توفیق سے ان کو نہایت صحت کے ساتھ اخذ کرتا ہے اور پھر کسی حذف واضافہ کے بغیر ان کو ہمیں سنا دیتا ہے۔ پیغمبر انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ ریڈیو یوسٹ ہے۔ اگر پیغمبر نہ ہو تو ہم خدا کی آوازوں کو نہ سن سکیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے مشینی ریڈیو یوسٹ کے بغیر کوئی شخص دور کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page