Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اوپر ایک چیونٹی کا کچل کر مرجانا۔ صدیوں کے بعد سمندر کے کنارے مٹی کا ایک ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک صندوق میں دفن کی گئی تھی۔ انسان باعتبار حقیقت انتہائی بامعنی ہے، مگر انسان کا ئنات کے موجودہ نظام میں اپنی معنویت کو نہیں پا تا۔ یہاں انسان کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں۔ موجودہ دنیا اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ موجودہ دنیا اپنی ساری معنویت کے باوجود بے معنی ہے اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ مانا جائے۔ توازن فطرت قطب جنوبی (انٹارکٹکا) کے بارے میں روسی جغرافیہ سوسائٹی نے تحقیقات کی ہیں۔ انھوں نے اندازہ لگایا ہے کہ قطب جنوبی کے اوپر جو برف جمی ہوئی ہے وہ دنیا بھر کے تازہ پانی کا 85 فیصد حصہ ہے۔ اس کی مقدار ڈھائی کروڑ مکعب میٹر ہے۔ قطب جنوبی کی برف اس وقت صرف ڈیڑھ کروڑ مربع میٹر کے علاقہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اگر اس برف کو دنیا کے تمام خشک حصہ پر پھیلا دیا جائے تو موجودہ خشک زمین پر 50 میٹر برف جم جائے گی ۔ اور اگر یہ برف اچانک پگھل جائے تو دنیا کے سمندروں کی سطح 60 سے 70 میٹر تک بلند ہو جائے گی۔ اور زمین کا دس فیصد حصہ زیر آب ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھر کے تمام ساحلی شہر پانی کے نیچے ڈوب جائیں گے۔ حتی کہ بہت سے ملک پورے کے پورے پانی کے نیچے چلے جائیں گے۔ قطب جنوبی کی تمام برف پگھلنے کی صورت میں سمندر کی اوسط حرارت دو ڈگری کم ہو جائے گی۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آجائے گی۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کم ہو جائے گی۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آجائے گی۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کے ہزارویں حصہ کی بیشی فضا میں پوری ایک ڈگری کی حرارت کا فرق پیدا کرتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page