عقلیات اسلام
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین پر جو نظام ہے وہ کس قدر متوازن نظام ہے۔ یہاں بیک وقت مختلف تقاضوں کے درمیان اس طرح توازن قائم رکھا گیا ہے کہ ہر چیز صرف اپنا فائدہ دے، وہ اپنے نقصان سے انسان کو بچائے رکھے۔ یہ توازن فطرت زمین کے ہر معاملے میں نمایاں ہے۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک ذہن کارفرما ہے۔ اگر یہاں ذہن کی کارفرمائی نہ ہو تو موجودہ توازن کسی حال میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ زمین کا مطالعہ کرتے ہوئے واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا جس ہستی نے زمین کے موجودہ حالات کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اس کو معلوم تھا کہ یہاں جاندار چیزیں (انسان، حیوان، نباتات) ہیں ۔ چنانچہ یہاں کی ہر چیز جاندار اشیاء کی ضرورت کے عین مطابق بنائی گئی ہے۔ اگر یہ واقعہ آدمی کو خدا کا یقین نہ دلائے تو آخروہ کیا چیز ہوگی جو آدمی کو اس کا یقین دلائے گی۔ نیم کا معجزہ دوسری انٹرنیشنل نیم کافرنس دسمبر 1983 میں مغربی جرمنی میں ہوئی۔ آج کل نیم کا درخت نباتاتی علماء کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیم مضر کیڑوں کو بھگانے والا ایک قیمتی قدرتی ذریعہ (natural repellent) ہے۔ انسان نے کیمیائی طور پر جتنی کیڑامار دوائیں بنائی ہیں وہ سب کیڑے پر اثر انداز ہونے کے ساتھ فضا کو بھی خراب کرتی ہیں اور اس طرح انسان کے لیے مضر بنتی ہیں۔ مگر نیم کے اندر یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ کسی فضائی نقصان (environmental damage) کے بغیر انسان کو اور نباتات کو مضر کیڑوں سے بچاتی ہے۔ مذکورہ کانفرنس میں 21 ملکوں کے ایک سو سے زیادہ سائنس داں جمع ہوئے ۔ ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader