Urdu book · عقلیات اسلام

ٹیم کا معجزہ

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک نے اپنے اپنے دائرہ میں نیم کے تجربات بتائے۔ ہالینڈ سے آنے والے ایک عالم ایل ایم اسچون ہیون (Dr. L.M.S Choonhoven) نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ نیم کے اندر ایک انوکھا دفاعی نظام (unique defence syetem) ہے ۔ یہ نظام ایک بے حد نادر قسم کا کیڑا کنٹرول (insect control) ذریعہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹوگو (togo) میں یہ تجربہ کیا گیا کہ کھیت کی مٹی میں نیم کی پتی ملا دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نباتاتی کیڑوں (plant parasites) کی تعداد بہت گھٹ گئی۔ اور ایسے کھیت جن میں یہ عمل کیا گیا تھا، فصل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ (spectacular increase) ہوا ۔ ہندوستان کے نمائندہ نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ نیشنل کیمیکل لیبارٹری (پونا) نے نیم کا ایک کمپاؤنڈ تیار کیا ہے جس کا نام نیمرچ (Neemrich) ہے۔ مکّاً ، آلو اور بعض دوسری فصلوں میں نیمرچ کے تجربے کیے گئے جس کے نتیجہ میں ان کی پیداوار میں قابلِ لحاظ اضافہ ہوا۔ موجودہ زمانہ میں دنیا کے تمام ملکوں میں کیڑا مار دواؤں (pesticides) کا استعمال عام ہے ۔ ان دواؤں کے استعمال سے یقیناً زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، مگر ابھی تک انسان یہ دریافت نہ کر سکا کہ ان دواؤں کے استعمال سے فضا میں جو مضر اثرات ہوتے ہیں ان سے کس طرح بچا جائے ۔ یہ کیڑا مار دوائیں اگر ایک طرف کیڑے کو مارتی ہیں تو اسی کے ساتھ وہ انسان کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں ۔ اگر آپ لکڑی اور پتی کو آگ میں ڈالیں تو دونوں جل جائیں گی ۔ کیوں کہ اصل کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں ۔ اسی طرح انسان اور کیڑے دونوں زندہ انواع ہیں۔ جو چیز ایک کے لیے نقصان دہ ہے وہی دوسرے کے نقصان کا باعث بھی ہوتی ہے۔ انسان کو مضر بیکٹیریا سے بچانے کے لیے اینٹی بایوٹک دوائیں کھلائی جاتی ہیں ۔ یہ دوائیں بیکٹیریاں کی طرح انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ مکھی، مچھر،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page