Urdu book · عقلیات اسلام

ٹیم کا معجزہ

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

دیمک اور دوسرے کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے ڈی ڈی ٹی چھڑکاجاتا ہے۔ اس سے مذکورہ کیڑے بھاگتے ہیں یا مرجاتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ فضا میں ڈی ڈی ٹی کے اجزاء شامل ہوجاتے ہیں۔ انسان سانس کے ذریعہ ان کو اپنے اندر داخل کرلیتا ہے۔ اور پھر طرح طرح کے امراض کا شکار ہوتا ہے۔ پھل اور زرعی پیداوار میں مضر کیڑے لگتے ہیں جن سے پیداوار بہت کم ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے کیڑامار دوائیں بنائی گئی ہیں۔ ان دواؤں کے استعمال سے باغوں اور کھیتوں کی پیداوار میں قابلِ لحاظ اضافہ ہوا ہے مگر یہاں بھی وہی صورت ہے کہ ایک طرف ان کیڑامار دواؤں سے فضا خراب ہوتی ہے، دوسری طرف خود پیداوار میں مضر کیمیائی مادے شامل ہو جاتے ہیں اور کھانے کے ساتھ انسان کے اندر داخل ہو کر نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ ہندوستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار پونڈ کیمیکل دوائیں زرعی کھیتوں میں چھڑکی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عوام کی صحت کا معیار برابر گر رہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ (1983ء) میں بتایا گیا ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں زرعی کیڑوں کو مارنے کے لیے جو کیمیائی دوائیں استعمال ہوتی ہیں ان کے زہریلے اثرات سے ہر سال تقریباً پچاس ہزار آدمی بیمار پڑتے ہیں اور ان میں سے تقریباً پانچ ہزار آدمی مرجاتے ہیں۔ انسانی سائنس ابھی اس سائنس تک بھی نہیں پہنچی جس کا مظاہرہ قدرت کے اس معجزہ کی سطح پر ہورہا ہے جس کو نیم کا درخت کہتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ فرض کیے ہوئے ہیں کہ اس دنیا کا کوئی خالق و مالک نہیں۔ اس دنیا کو چلانے والا کوئی ذہن نہیں۔ ’’ڈی ڈی ٹی‘‘ کا ایک پیکٹ ہو تو اس کو دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ یہ پیکٹ اپنے آپ بن گیا ہے۔ ہر آدمی اس کو ذہن کی تخلیق قرار دے گا۔ مگر ڈی ڈی ٹی کی نوعیت کی اس سے زیادہ اعلیٰ پیداوار کو دیکھ کر آدمی یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ وجود میں آگئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page