عقلیات اسلام
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
نیم کا درخت بلاشبہ ڈی ڈی ٹی سے بہت زیادہ اعلیٰ پیداوار ہے۔ اس کی بناوٹ میں یقینی طور پر غیر معمولی ذہانت پائی جاتی ہے۔ پھر کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو ڈی ڈی ٹی کے بارے میں یہ مانتے ہیں کہ وہ ذہانت کی پیداوار ہے۔ مگر یہی بات وہ نیم جیسی چیزوں کے بارے میں نہیں مانتے۔ تخلیق میں ذہانت شہد کی مکھی پھولوں کا رس چوس کر شہد تیار کرتی ہے۔ مگر شہد کی مکھی کا صرف اتنا ہی کام نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اور بھی کئی اہم کام انجام دیتی ہے۔ انھیں میں سے ایک کام زرخیزی ہے۔ یعنی نر اور مادہ کے زیرہ کو ایک دوسرے پر پہنچانا تاکہ وہ زرخیز ہو سکیں۔ یہ کام اتنا اہم ہے کہ شہد کی مکھی کے ایک ماہر نے لکھا ہے کہ پھولوں کا رس وہ معاوضہ ہے جو پودا شہد کی مکھیوں کو زرخیز بنانے کے عمل کے لیے ادا کرتا ہے: Nectar is the fee paid by the plant for the fertilizing service of the insect (bees). امریکہ کے مشرقی حصہ میں پھولوں کے رس (nectar) کا نوے فیصد حصہ بے کار چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس علاقہ میں شہد کی مکھیاں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اور اسی نسبت سے زرخیزی کا عمل بھی نسبتاً کم انجام پا تا ہے۔ معلوم کیا گیا ہے کہ شہد کی مکھی جب کسی باغ یا کیاری میں پھولوں کا رس چوس رہی ہو تو وہ بیک وقت ہر قسم کے درختوں کے پھولوں کا رس نہیں چوستی۔ بلکہ وہ یہ کرتی ہے کہ جس پھول کا رس ایک بار لیا ہے، اسی کا رس بار بار لیتی ہے۔ وہ ایک وقت میں ایک ہی نسل کے پھولوں کے درمیان اڑ کر ایک کے بعد ایک کارس لیتی رہتی ہے۔ شہد کی مکھی کا یہ طریقہ زراعت اور باغبانی کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ایک مخصوص پھول کے زیرہ کو اسی مخصوص درخت کے پھولوں تک پہنچاتی رہتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader