عقلیات اسلام
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ پھول چوسنے کے دوران پھول کا زیرہ اس کے جسم سے چپک جاتا ہے۔ جب وہ دوسرے پھول پر جا کر بیٹھتی ہے تو اس کا زیرہ اس پھول پر گر جاتا ہے، اس طرح نر اور مادہ کے درمیان زرخیزی کا عمل انجام پاتا ہے۔ اور ان میں تزویج کا عمل جاری رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تقریبا لاکھ قسم کے پودے زمین سے بالکل ختم ہو جائیں۔ یہ واضح طور پر تخلیق کے نظام میں ذہانت ہونے کا ثبوت ہے۔ اس قسم کا بامعنی واقعہ لازمی طور پر ثابت کرتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے۔ اگر خالق نہ ہو تو تخلیق کے نظام میں اس قسم کی معنویت ممکن نہیں۔ ذرہ بھی غائب نہیں ہوابازی کے قانون کے مطابق بارہ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ وزنی ہوائی جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ بلیک باکس رکھیں۔ بلیک باکس دو چھوٹے چھوٹے خاص قسم کے ٹیپ ریکاڈر رہیں، جس میں سے ایک کو فلائٹ ریکارڈر اور دوسرے کو وائس ریکارڈر کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اوسطاً 20 انچ لمبا اور 6 انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس کا وزن کم وبیش 25 پاؤنڈ ہوتا ہے۔ یہ دونوں ریکارڈر ہوائی جہاز کی دم میں رکھ دیے جاتے ہیں تا کہ حادثہ کے وقت محفوظ رہ سکیں۔ وہ مخصوص نظام کے تحت پائلٹ کی آواز جہاز کی رفتار اور دوسری ضروری معلومات ریکارڈ کرتے رہتے ہیں۔ ان کا ٹیپ آٹومیٹک طور پر ہر آدھ گھنٹہ میں مٹ جاتا ہے تا کہ جہاز کے آخری لمحات کا حال ان سے معلوم ہو سکے۔ 23 جون 1985ء کو ایک سخت ہوائی حادثہ ہوا۔ ایر انڈیا کا ایک بڑا جہاز (بوئنگ 747) کناڈا سے لندن ہوتا ہوا ہندوستان آ رہا تھا۔ زمینی کنٹرول جہاز کی لمحہ لمحہ رپورٹ لے رہا تھا۔ اچانک اس کی کمپیوٹر اسکرین پر جہاز کی تصویر غائب ہوگئی۔ جہاز سے پیغامات آنا بالکل بند ہو گئے۔ جہاز ایک حادثہ کا شکار ہو کر اچانک اٹلانٹک سمندر میں گر پڑا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader