Urdu book · عقلیات اسلام

ذرہ بھی غائب نہیں

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ جہاز پر 329 مسافر تھے جو سب ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا جو حادثہ کی تفصیلات دنیا والوں کو بتا سکے۔ اب حادثہ کی بابت معلوم کرنے کا ذریعہ صرف وہ بلیک باکس تھا جو اٹلانٹک سمندر میں تہہ نشین ہو کر رہ گیا تھا۔ اٹلانٹک سمندر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندر ہے۔ اس کا رقبہ چھوٹے چھوٹے ذیلی سمندروں کو ملا کر چار کرور گیارہ لاکھ مربع میل ہے۔ اس ناپیدا کنار سمندر میں بلیک باکس کی حیثیت صرف ایک چھوٹے سے ذرہ کی تھی جو سمندر کے نیچے دو میل کی گہرائی میں پڑا ہوا تھا۔ بظاہر اس ذرہ کو سمندر سے نکالنا نا ممکن تھا۔ مگر یہ ناممکن ممکن ہو گیا اور 10 جولائی 1985ء کو وائس ریکارڈر اور 11 جولائی 1985ء کو فلائٹ ریکارڈر گہرے سمندر کی تہہ سے نکال لیا گیا۔ یہ معجزہ کیسے پیش آیا۔ وہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ کنٹرول کیے جانے والے مشینی انسان(remote-controlled robot) کے ذریعہ پیش آیا۔ بلیک باکس میں ایسی مشینیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ ریڈیائی سگنل بھیجتا رہتا ہے۔ یہ سگنل اس سے ہر سیکنڈ میں نکلتے ہیں اور تیس دن تک جاری رہتے ہیں۔ فرانس اور امریکہ اور برطانیہ کی جدید سامان سے مسلح کشتیوں نے سگنل کے ذریعہ ان کے جائے وقوع کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا لیا۔ اس کے بعد مخصوص کیمرہ کے ذریعہ اس کی تصویریں لی گئیں۔ پھر مشینی انسان (robot) سمندر کی تہہ میں بھیجے گئے۔ جو انسان کی مانند بازو اور ہاتھ اور انگلیاں رکھتے ہیں۔ یہ روبوٹ ریڈیائی لہروں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ انسان سمندر کے اوپر مشینی اسکرین پر سارا منظر دیکھتا ہے اور ریڈیائی لہروں کے ذریعہ روبوٹ کی رہنمائی کرتا ہے تا کہ وہ متعین مقام پر پہنچ کر بلیک باکس کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیں اور پھر اوپر لا کر انسان کے حوالے کر دیں۔ یہ طریقہ تھا جس کو استعمال کر کے اتھاہ سمندر سے ایک چھوٹے سے ذرہ کو نکال لیا گیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page