Urdu book · عقلیات اسلام

سائنس مذہب کے راستہ پر

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس مذہب کے راستہ پر اگر چہ ہر زمانہ میں خدا اور مذہب کو ماننے والوں کی اکثریت رہی ہے، خاص طور پر قدیم زمانہ میں تو اسی نقطہ نظر کو عمومی غلبہ حاصل تھا۔ تاہم تقریباً ہر زمانہ میں یہ بحث جاری رہی ہے کہ اس عالم کا کوئی خدا ہے یا یہ یونہی اپنے آپ بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ فلسفہ میں اس بحث کو جو عنوان ملا وہ ایک کے لیے عینیت (idealism) اور دوسرے کے لیے مادیت (materialism) تھا۔ عینیت یا آئیڈ یلزم، خالص فنی تفصیلات کو چھوڑ کر، اس نقطہ نظر کی حامی رہی ہے کہ کائنات کی آخری حقیقت روحانی (spiritual) ہے۔ یعنی جو سی مناظر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں، ان کا کوئی حقیقی وجود ہمارے دماغ کے باہر نہیں ہے۔ آئیڈیلزم، ایک معنی میں، اگر چہ افلاطون (427-347 ق م) کے زمانہ سے موجود رہی ہے۔ مگر موجودہ مفہوم میں وہ اٹھارویں صدی میں جارج برکلے (1753-1685ء) سے شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں یہ سوال تھا کہ اگر اشیاء کا وجود صرف ذہنی ہے تو کیا وجہ ہے کہ یہ مادی چیزیں اس وقت بھی موجود رہتی ہیں جب کہ کوئی شخص ان کو دیکھ نہ رہا ہو۔ برکلے نے جواب دیا کہ ان اشیاء کا وجود خدا کے ذہن میں ہے۔ اس طرح اس نے آئیڈ یلزم کو خدا کے وجود پر ایک نئی دلیل کی حیثیت دے دی۔ کانٹ (1804-1724ء) کے زمانہ میں اس فکر نے نئی وسعت اختیار کی اور ایک مستقل اسکول کی حیثیت سے قائم ہو گیا۔ جرمنی، انگلینڈ، فرانس، امریکا، ہر جگہ اس کے بڑے بڑے وکیل پیدا ہوئے۔ تاہم پہلی جنگ عظیم (1914-18ء) کے بعد اس فکر کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس مادیت یا مٹیریلزم، اپنے مختلف مدارس فکر کے ساتھ، اس نقطہ نظر کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page