Urdu book · عقلیات اسلام

سائنس مذہب کے راستہ پر

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

حامی رہی ہے کہ اس عالم میں جو کچھ ہے، وہ سب کا سب مادی ہے اور مادہ کے باہر اس کا کوئی وجود نہیں۔ اس نظریہ کا دعویٰ ہے کہ یہاں صرف ایک حقیقت ہے اور وہ مادہ ہے۔ حتیٰ کہ خود انسان بھی، معروف عقیدہ کے مطابق دو چیزوں ــ جسم اور روح ــ کا مجموعہ نہیں، بلکہ بنیادی طور پر وہ صرف ایک ہی حقیقت رکھتا ہے اور وہ اس کا مادی جسم ہے۔ اس نقطہ نظر کا پہلا سراغ اپی کیورس (270-342 ق م) کے یہاں ملتا ہے جس کا خیال تھا کہ تمام چیزیں، اپنے آخری تجزیہ میں، چھوٹے چھوٹے ناقابل مشاہدہ اجزاء سے مل کر بنی ہیں۔ اس مادی نظریہ نے سترھویں صدی میں نئی قوت پکڑی جب ہولباخ کی کتاب سسٹم آف نیچر (1770ء) شائع ہوئی۔ اس کے وکیلوں کی فہرست، باہمی اختلاف کے باوجود، بہت لمبی ہے۔ بیسویں صدی میں مٹیریلزم کی دو بڑی شاخیں بن گئیں ۔ ایک جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) جو کہ کمیونسٹ دنیا کا سرکاری فلسفہ ہے۔ دوسرے وہ جس کو طبیعتیت (physicalism) کہا جاتا ہے۔ مٹیریلِسٹ، ذہن کو بھی مانتے ہیں، مگر ان کے نزدیک ذہن محض مادی جسم کا ایک عمل (function) ہے۔ مادی جسم سے الگ اس کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ آئیڈ یلزم اور مٹیریلزم کی یہ کش مکش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی افکار کی تاریخ پرانی ہے۔ آئیڈ یلزم، حقیقتاً مذہب کی وککیل نہ ہونے کے باوجود اس اعتبار سے مذہب کا فلسفیانہ سہارا رہی ہے کہ وہ آخری حقیقت کو غیر مادی ثابت کرتی ہے، جیسا کہ خود مذہب کا دعویٰ ہے۔ اس کے برعکس مٹیریلزم نے انکارِ خدا کے لیے فکری زمین مہیا کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک حسی دنیا سے باہر کسی چیز کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔ پچھلی صدی میں جدید طبیعی سائنسوں کے وجود میں آنے کے بعد اس نقطہ نظر نے مزید وسعت اختیار کی۔ اب سائنس کے تشریحی علم کے طور پر سائنٹفک مٹیریلزم پیدا ہوا۔ علم طبقات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page