Urdu book · عقلیات اسلام

خارجی ہدایت کی ضرورت

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے لیے کسی صحیح تر فلسفہ حیات کی تلاش کرے۔ اوپر جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا، اس کی صرف دو توجیہیں (explanations) ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ انسان ایک مکمل کائنات کے اندر ایک نامکمل وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایسے کائناتی تضاد کی علامت ہے جس کا کوئی حل معلوم دنیا کے اندر ممکن نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس تضاد کا بھی حل ہے یا کم از کم ہو سکتا ہے۔ تجرباتی علوم کے پاس دونوں توجیہات میں سے کسی کے حق میں کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم عقلی قیاس یہ کہتا ہے کہ دوسری توجیہ کو صحیح ہونا چاہیے کیوں کہ یہ عظیم کائنات جس طرح قانون فطرت اور جبلت کے تحت انتہائی منظم طور پر چل رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات ناقابلِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ اس سے کمتر درجہ کے ایک سوال کا جواب اس کے پاس نہ ہو۔ جو تخلیقی قوت عالم افلاک کے مہیب نظام کو گردش دے رہی ہے اور ذی روح اشیاء کی انتہائی پیچیدہ زندگی کو پوری کامیابی کے ساتھ بروئے کار لانے میں مصروف ہے، وہ اس کے مقابلہ میں ایک بہت چھوٹے مسئلہ کا حل اپنے پاس نہ رکھتی ہو، یہ کسی طرح قابلِ فہم نظر نہیں آتا۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ بطور خود اپنا فلسفہ حیات دریافت کر سکے۔ مگر خارجی قرائن کہتے ہیں کہ کائنات میں اس انسانی طلب کا انتظام ہونا چاہیے، جس طرح دوسری بے شمار ضرورتوں کا مکمل انتظام اس کے اندر موجود ہے۔ مذہب یہی خارجی ہدایت ہے جو وحی کی صورت میں خدا کی طرف سے آتی ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ مذہب محض ایک سماجی یا نفسیاتی فریب ہے۔ مگر جدید تحقیقات نے ہمیشہ سے زیادہ آج مذہب کی صداقت کو ثابت کر دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page