سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
الارض اور حیاتیاتی ارتقاء کے نظریہ میں لوگوں نے اس کی زبردست تصدیق پائی۔ عام طور پر تسلیم کر لیا گیا کہ زندگی اور دماغ بے جان مادہ ہی کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔ فزیالوجی کی ترقیاتی نے اس کو مزید مستحکم کیا کیوں کہ اس کے مطالعہ سے ثابت ہوا کہ ذہنی زندگی اور اس کی وسعت کا انحصار دماغ (brain) کی جسامت پر ہے۔ اگر چہ اس کے بڑے بڑے وکیل مثلاً کارل واٹ (1895ء) اور لڑوگ بشنر (1899-1824ء) واضح طور پر ثابت نہ کر سکے کہ دماغ کی واقعی حقیقت کیا ہے، تا ہم جدید طبیعی دریافتوں کے بعد عام طور پر سمجھ لیا گیا کہ سائنس نے مٹیر یلزم کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ ستر ھویں صدی سے شروع ہو کر انیسویں صدی کے آخر تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ مٹیر یلزم جدید علمی دنیا کی فاتح ہے اور اب علمی اور منطقی طور پر مذہب کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ فکری طور پر اس مٹیر یلزم کے دو رخ تھے۔ ایک، یہ کائنات سر تا سر ایک مادی وجود ہے، اس لیے یہاں کسی غیر مادی ہستی (مثلاً خدا) کو ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہاں جو واقعات ہو رہے ہیں، ان کے پیچھے معلوم مادی اسباب ہیں، اس لیے کسی رب اور قیوم کو ماننے کی کیا ضرورت۔ مٹیر یلزم کا پہلا پہلو خدا کے وجود کا انکار کر رہا ہے۔ دوسرا پہلو خدا کے وجود کو نا ممکن تو نہیں بتاتا، البتہ اس کے مطابق ابتدائی پیدائش کے بعد اس نظام کا ئنات کو خدا کی کوئی ضرورت نہیں۔ والٹیر (1778-1694ء) کے الفاظ میں، اگر خدا ہے تو ہماری دنیا سے اس کو وہی تعلق ہے جو ایک گھڑی سے اس کے ابتدائی بنانے والے کو۔ تا ہم ہیوم (1776-1711ء) نے اس'' بے جان اور بے کار‘ خدا کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔ کیوں کہ اس نے'' گھڑیاں بنتے ہوئے دیکھی تھی مگر دنیا ئیں بنتی ہوئی دیکھی۔‘‘ مگر انیسویں صدی کا خاتمہ در حقیقت ان تمام نظریات کا بھی خاتمہ تھا۔ موجودہ صدی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader