Urdu book · عقلیات اسلام

سائنس مذہب کے راستہ پر

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

خود سائنس نے جو حقائق دریافت کئے ہیں، انھوں نے ان سارے خیالات کی آخری طور پر تردید کر دی ہے۔ نیوٹن کی میکانکس کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ اگر کسی شے کی موجودہ حالت معلوم ہو تو اس کی سابق یا آئندہ حالت قطعی طور پر متعین ہو جائے گی اور محض قوانین حرکت کی بنا پر علم ریاضی کی مدد سے ازل سے ابد تک اس کی تمام حالتوں کی پیش بندی کی جاسکے گی۔ میکانکس کا یہی مسئلہ تھا جو مادہ پرستوں کے لیے حکم فیصل کا کام دیتا تھا اور جس کی بنا پر وہ کسی خالق کے تصور کو غیر ضروری قرار دیتے تھے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک کائنات کی ہر حالت، ہر لمحہ متعین ہے اور وہ اس کے مطابق خود بخود تشکیل پاتی چلی جا رہی ہے۔ فطرت کے باقاعدہ قانون کی حیثیت سے یہ اصولِ تعلیل (law of causation) مسلّمۂ طور پر سترھویں صدی میں مان لیا گیا، وہ عظیم صدی جو گلیلیو (1642-1564ء) اور آئزک نیوٹن (1727-1642ء) کی صدی کہی جاتی ہے اس سے پہلے دم دار ستارے (comets) کے ظہور کو بادشاہت کا خاتمہ یا کسی بڑے آدمی کی موت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس صدی میں تجاذب کے آفاقی قانون کے تحت اس کی توجیہ معلوم کرلی گئی۔ اور ''نیوٹن نے لکھا:''اسی طرح قدرت کے دوسرے واقعات بھی میکانکی اصولوں (mechanical principles) کے تحت معلوم کر لیے جائیں گے۔‘‘ اس طرح ایک زبردست تحریک اٹھ کھڑی ہوئی جس کا مقصد عالم مادی کو ایک مشین ثابت کرنا تھا۔ یہ تحریک انیسویں صدی کے نصف آخر میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ یہی وقت تھا جب ہیلم ہولٹز (1894-1821ء) نے کہا:''تمام فطری علوم کا آخری مقصد بالآخر اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کر لینا ہے۔‘‘لارڈ کلوین (1907-1824ء) نے اعتراف کیا کہ ''جب تک میں کسی چیز کا میکانیکل ماڈل نہیں بنا لیتا، میں اس کو سمجھ نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page