سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتا۔‘‘ واٹرسٹن میکسویل (1931-1879ء) اور دوسروں نے نہایت کامیابی کے ساتھ گیس کی مشینی تشریح پیش کی۔ ان کے نزدیک گیس نہایت چھوٹے چھوٹے سخت ترین ذرات کا مجموعہ تھی جو ادھر ادھر تتلیوں کی طرح اڑتے پھرتے تھے۔ اسی طرح رقیق اشیاء، روشنی اور تجاذب وغیرہ کی تشریحات کی گئیں۔ اگرچہ انہیں اس کوشش میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ مگر ان کو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن ساری کائنات مشینی توجیہ (mechanical interpretation) کو قبول کر لے گی۔ ”جب ساری کائنات اصول تعلیل میں بندھی ہوئی ہے تو انسان اس سے مستثنیٰ کیوں کر ہو سکتا ہے۔‘‘ اس سوال نے انسان کو یہاں تک پہنچایا کہ خود انسان بھی ایک مشین بن گیا۔ اس سے سترھویں اور اٹھارویں صدی کے مشینی فلسفے (mechanistic philosophies) پیدا ہوئے ۔ جب معلوم ہوا کہ زندہ اشیاء بھی ٹھیک اسی کیمیکل ایٹم سے بنی ہیں جس سے غیر جاندار اشیاء، تو اس یقین میں کوئی شبہ نہ رہا کہ دونوں کی نوعیت بالکل ایک ہے۔ زور شور کے ساتھ دعویٰ کر دیا گیا کہ زندگی خود بھی اپنے آخری تجزیہ میں محض ایک مشینی چیز ہے۔ نیوٹن یا باخ یا مائیکل اینجلو کے دماغ کسی چھاپہ خانہ سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے، ورنہ دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہ تھا۔ مگر انیسویں صدی کے آخر میں جب کہ فلاسفہ اس بحث میں مشغول تھے کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے جو نیوٹن یا باخ (1750-1685ء) کے خیالات کا اعادہ کر سکے، مظاہر فطرت خصوصاً روشنی (radiation) اور تجاذب (gravitation) کی خالص میکانکی توجیہ کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہو رہی تھیں۔ سائنسداں تیزی سے اس یقین تک پہنچ رہے تھے کہ کوئی مشین بلب کی روشنی یا سیب کے گرنے کا اعادہ نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ انیسویں صدی کے آخر میں پروفیسر میکس پلانک (1947-1858ء) نے روشنی کے متعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader