سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے نظریات پیش کیے جو کسی بھی طرح میکانیکی تشریح کو قبول کرنے والے نہ تھے۔ چنانچہ ابتداء میں اس بنا پر اس پر تنقید کی گئی بلکہ اس کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر بالاخر اس کے نظریات کوانٹم نظریہ quantum theory کی شکل میں جدید طبیعیات کے مسلمات میں شامل ہو گئے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے میکانیکل دور کا خاتمہ اور نئے عہد کا آغاز کیا۔ میکس پلانک کا نظریہ ابتداء میں صرف یہ معنی رکھتا تھا کہ قدرت جھٹکوں اور چھلانگوں (jumps and jerks) کی صورت میں سفر کرتی ہے، جیسے کہ گھڑی کی سوئی۔ مگر آئن سٹائن نے 1917ء میں دکھایا کہ پلانک کا نظریہ محض عدم تعین (discontinuity) سے زیادہ انقلابی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اصول تعلیل کا خاتمہ کر رہا ہے جس کو نظام قدرت کا طبیعی رہنما سمجھ لیا گیا تھا۔ قدیم سائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی تھی جو علت و معلول کے تحت اول روز سے مقدر ہو گیا تھا۔ مگر اب اس پر یقین کرنا ناممکن ہو گیا۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ جیسا کہ معلوم ہے، ریڈیم اور دوسرے ریڈیائی عناصر (radio-active elements) کے ایٹم ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اور اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ یہ عناصر سیسہ اور ہیلیم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایٹم کیوں ٹوٹتے ہیں، اس کے متعلق تعلیل کے سارے ممکن قیاسات غلط ثابت ہوئے ہیں۔ مثلاً یہ قیاس کہ ممکن ہے یہ ایٹم الیکٹران کی حرکت سے پیدا ہونے والی گرمی سے ٹوٹتے ہوں، صحیح نہیں۔ کسی مخصوص ایٹم پر خارج سے گرمی پہنچا کر اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ تجربہ کیا گیا اور ناکام رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ردر فورڈ (1937-1871ء) اور ساڈی (1956-1877ء) نے 1903ء میں خود بخود انتشار (spontaneous disintegration) کا مفروضہ قائم کیا جو خالص طبیعی نقطہ نظر سے، تو جیہ نہیں بلکہ تو جیہ کی نفی ہے۔ موجودہ صدی کے آغاز میں جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader