سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
میک لینان اور ردر فورڈ اور دوسروں نے کائنات نئی شعاعوں کی دریافت کی تو سمجھا گیا کہ یہی شعاعیں ہیں جو کہ ریڈیائی عناصر میں انتشار کا سبب ہیں۔ مگر تجربہ سے یہ بھی غلط ثابت ہوا۔ عام روشنی کسی مادہ میں ایک انچ سے بھی کم داخل ہوتی ہے۔ ایکسرے کی شعاعیں اس سے کہیں زیادہ نفوذ کی طاقت رکھتی ہیں۔ وہ ہمارے پورے جسم کو پار کر جاتی ہیں۔ تاہم ایک سکے کے برابر دھات کا ٹکڑا ان کے نفوذ کو روک دیتا ہے۔ مگر کائنات نئی شعاعیں سیسہ اور دیگر سخت دھاتوں میں کئی گز تک اتر جاتی ہیں۔ اس لیے یہ قیاس بہت آسان تھا کہ ریڈیائی انتشار کا سبب یہی شعاعیں ہیں۔ مگر یہ قیاس نہایت سادہ تجربہ سے غلط ثابت ہو گیا۔ ریڈیائی عنصر کے ایک ٹکڑے کو کوئلہ کی کان کے نیچے لے جایا گیا۔ اب وہ کائنات نئی شعاعوں کے حملہ سے بالکل محفوظ تھا۔ مگر اس کے اندر جوہری انتشار اب بھی اسی طرح جاری تھا۔ کائنات کے ان ناقابل توجیہہ مظاہر کا ذکر کرتے ہوئے ایک سائنس داں لکھتا ہے: The future may not be as unalterably determined by the past as we used to think, in part at least it may rest on the knees of whatever gods there be. (Sir James jeans, The Mysterious Universe, the University press, Cambridge, 1948, p.22.) کائنات کا مستقبل اس طرح غیر متغیر طور پر ماضی سے بندھا ہوا نہیں ہے جیسا کہ ہم نے سمجھ لیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بہر حال خداؤں سے متعلق ہے، خواہ وہ خدا جو بھی ہوں۔ دوسری تحقیقات بھی اسی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ مثلاً پروفیسر وارنر ہیزن برگ (وفات 1976ء) نے 1927ء میں بتایا کہ کوانٹم نظریہ ایک اور نتیجہ تک پہنچا رہا ہے جس کو انھوں نے نظریہ عدم تعین (principle of Indeterminacy) سے تعبیر کیا۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ قدرت ایک ہی متعین رخ پر نہایت صحت کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader