سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
سفر کرتی ہے۔ مگر ہیزن برگ نے دکھایا کہ قدرت سب سے زیادہ اسی مفروضہ کی تردید کر رہی ہے۔ چنانچہ آج طبیعی سائنس کا مسلمہ قانون ہے کہ نہ صرف کائنات بلکہ اس کے کسی حصہ یہاں تک کہ کسی ایک ذرہ کا مستقبل بھی قطعی طور پر متعین نہیں ہے۔ وہ کئی ممکن حالتوں میں سے کسی ایک حالت کو اختیار کر سکتا ہے۔ اس طرح قوانین قدرت تعینی (deterministic) نہیں بلکہ اوسطی (statistical) ہو جاتے ہیں۔ انیسویں صدی کی طبیعیات میں مادہ اور توانائی ایک دوسرے کے متضاد تصورات تھے۔ مادہ کے متعلق سمجھا جاتا تھا کہ وہ ایک جسمانی شے ہے جو ایک محدود فضا کو بلا شرکت غیر گھیرتی ہے اور جس کا ایک مستقل وزن ہوتا ہے، جس کو کم و بیش یا معدوم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کوئی مادی شے حرکت کرتی ہے تو وہ ایک ہی خط میں ایک ذرہ کی طرح حرکت کرتی ہے۔ آواز یا روشنی کی موجوں کی طرح پوری فضا میں نہیں پھیل جاتی۔ اس کے برخلاف روشنی اور توانائی کے متعلق یہ خیال تھا کہ نہ تو وہ کوئی جسمانی شے ہے اور نہ کسی محدود فضا کو بلا شرکت غیر گھیرتی ہے۔ اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اور وہ ذرہ کی طرح حرکت نہیں کرتی بلکہ موجوں کی شکل میں آگے بڑھتی ہے۔ اس ”دوئی“ نے لوگوں کو موقع دیا کہ وہ یہ دعویٰ کر سکیں کہ کائنات کی اصل مادہ ہے۔ توانائی اس مادہ کا ایک اضافی مظہر ہے۔ اس کا علیحدہ کوئی وجود نہیں۔ جدید طبیعیات میں مادہ اور توانائی کا یہ اختلاف ختم ہو گیا ہے اور تجربوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی مختلف شکلیں ہیں۔ کبھی مادہ توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کبھی توانائی مادہ میں۔ کسی مادی شے کی کمیت مستقل نہیں بلکہ وہ اس کی حرکت پر منحصر ہوتی ہے اور رفتار کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ ایک مادی شے کبھی ذرے کی طرح ایک خط میں حرکت کرتی ہے اور کبھی موجودہ کی طرح پھیلتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ مادہ کے توانائی میں منتقل ہونے کا یہی اصل اصول ہے جس کی بنا پر ایٹم بم بنایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader